شیشۂ قلب کے اندر
کچھ شبیہہ دل کے، پار ہوتے ہیں
کچھ ادهر ادهر سے آتے ہیں
اور اپنا عکس بناتے ہیں
مدت اس اغیار کی بس
اک آنی جانی ہوتی ہے
اِک لہر سی دل میں آتی ہے
اور چُھو کر اس میں بہہ جاتی ہے
رنگ رہے احساس کے اور
سرخ، سفید اور کالے پیلے
کچھ قوس قزح کے رنگوں سی
بس یہ لمحے تب تب دہکتے ہیں
اس رات تیری یاد کی بارش ہو
اس پہر سے صبح ہو جائے
اور بوند بوند کی اشک اٹھائے
تیری یاد کے رنگ برنگی لمحے
قوس قزح کا روپ دھریں
کچھ عشق کے خونی سرخی کو
کچھ میٹھے نارنجی قفس کی سانسیں
کچھ کالی رنگ کی بے رخی
ہرا ہرا سا درد ہو اس میں
پھر آ جائے نیلا رنگ
تیری لمس کی ہوائیں چُھوتی چُھوتی
اس میں جانے کدھر کدھر سے
اک مہک رہے، میری مٹی کی
اس عشق کے اندر عشق ہے ایک
اس درد کے اندر درد ہی درد
پس جانے والے جاتے جاتے
ایک ہی کام کر جاتے ہیں
اس شیشۂ قلب کے اندر
اپنی شبیہہ چھوڑ جاتے ہیں
ناز بارکزئی
No comments:
Post a Comment