عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس
کوچۂ ارباب دل سے یہ صدا آئی کہ بس
جب قدم دیوانگی کی حد سے آگے بڑھ گئے
دیکھنے والوں کو مجھ پر وہ ہنسی آئی کہ بس
بوئے مشکیں مسکرائی پھول خوشبو لے اڑے
اس سراپا ناز کی یوں زلف لہرائی کہ بس
عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس
کوچۂ ارباب دل سے یہ صدا آئی کہ بس
جب قدم دیوانگی کی حد سے آگے بڑھ گئے
دیکھنے والوں کو مجھ پر وہ ہنسی آئی کہ بس
بوئے مشکیں مسکرائی پھول خوشبو لے اڑے
اس سراپا ناز کی یوں زلف لہرائی کہ بس
ہو گئی عقدہ کشائی تِرے دیوانے سے
راز کونین کھلے عشق کے افسانے سے
ہو گئی عشقِ مجازی سے حقیقت کی نمود
راہ کعبے کی نظر آئی ہے بت خانے سے
قطرے قطرے کا مجھے دینا ہے محشر میں حساب
مے چھلک جائے نہ ساقی کہیں پیمانے سے
تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کِیا
تو حسرتوں نے ادب سے مجھے سلام کیا
کہاں کہاں نہ نظر نے تمہاری کام کیا
اُتر کے دل میں اُمیدوں کا قتلِ عام کیا
غموں کے دور میں ہنس کر جو پی گئے آنسو
تو آنے والی مسرّت نے احترام کیا
جشن برباد خیالوں کا منا لوں تو چلوں
مژۂ شوق کو غم ساز بنا لوں تو چلوں
میری ہستی میں سمٹ آئے اندھیرے غم کے
شمع الفت کی تِرے غم میں جلا لوں تو چلوں
دل بے تاب ٹھہر اشکِ تمنا کے طفیل
بزم فرقت کو سر شام سجا لوں تو چلوں
بڑھا تنہائی میں احساسِ غم آہستہ آہستہ
ہمیں یاد آئے سب اہلِ کرم آہستہ آہستہ
دلِ مضطر کی بیتابی کا عالم کیسا عالم ہے
کِھنچا جاتا ہے دل سُوئے صنم آہستہ آہستہ
چلا ہوں منزلِ جاناں میں کچھ ایسے تأثر سے
نظر شرمندہ شرمندہ،۔ قدم آہستہ آہستہ