Showing posts with label مبین علوی. Show all posts
Showing posts with label مبین علوی. Show all posts

Sunday, 13 March 2022

عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس

 عشق میں کچھ اس طرح دیوانگی چھائی کہ بس

کوچۂ ارباب دل سے یہ صدا آئی کہ بس

جب قدم دیوانگی کی حد سے آگے بڑھ گئے

دیکھنے والوں کو مجھ پر وہ ہنسی آئی کہ بس

بوئے مشکیں مسکرائی پھول خوشبو لے اڑے

اس سراپا ناز کی یوں زلف لہرائی کہ بس

Tuesday, 4 January 2022

ہو گئی عقدہ کشائی ترے دیوانے سے

 ہو گئی عقدہ کشائی تِرے دیوانے سے

راز کونین کھلے عشق کے افسانے سے

ہو گئی عشقِ مجازی سے حقیقت کی نمود

راہ کعبے کی نظر آئی ہے بت خانے سے

قطرے قطرے کا مجھے دینا ہے محشر میں حساب

مے چھلک جائے نہ ساقی کہیں پیمانے سے

Thursday, 9 December 2021

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیا

 تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کِیا

تو حسرتوں نے ادب سے مجھے سلام کیا

کہاں کہاں نہ نظر نے تمہاری کام کیا

اُتر کے دل میں اُمیدوں کا قتلِ عام کیا

غموں کے دور میں ہنس کر جو پی گئے آنسو

تو آنے والی مسرّت نے احترام کیا

Wednesday, 8 December 2021

جشن برباد خیالوں کا منا لوں تو چلوں

 جشن برباد خیالوں کا منا لوں تو چلوں

مژۂ شوق کو غم ساز بنا لوں تو چلوں

میری ہستی میں سمٹ آئے اندھیرے غم کے

شمع الفت کی تِرے غم میں جلا لوں تو چلوں

دل بے تاب ٹھہر اشکِ تمنا کے طفیل

بزم فرقت کو سر شام سجا لوں تو چلوں

Sunday, 10 October 2021

بڑھا تنہائی میں احساس غم آہستہ آہستہ

 بڑھا تنہائی میں احساسِ غم آہستہ آہستہ

ہمیں یاد آئے سب اہلِ کرم آہستہ آہستہ

دلِ مضطر کی بیتابی کا عالم کیسا عالم ہے

کِھنچا جاتا ہے دل سُوئے صنم آہستہ آہستہ

چلا ہوں منزلِ جاناں میں کچھ ایسے تأثر سے

نظر شرمندہ شرمندہ،۔ قدم آہستہ آہستہ