Thursday, 9 December 2021

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیا

 تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کِیا

تو حسرتوں نے ادب سے مجھے سلام کیا

کہاں کہاں نہ نظر نے تمہاری کام کیا

اُتر کے دل میں اُمیدوں کا قتلِ عام کیا

غموں کے دور میں ہنس کر جو پی گئے آنسو

تو آنے والی مسرّت نے احترام کیا

یہ کس نے چُن کے مسرّت کے پھول دامن سے

غموں کا بوجھ مِری زندگی کے نام کیا

مبین گلشنِ ہستی میں آگ بھڑکی ہے

جنونِ شوق نے کیا خوب اپنا کام کیا


مبین علوی خیرآبادی

No comments:

Post a Comment