نازشِ علم و ہنر تیری فضاؤں کو سلام
تیرے لطفِ خاص، تیری اداؤں کو سلام
درس گاہِ قوم و ملت اے محبت کے شجر
تیری پرچھائیں سے چمکے کتنے ہی شمس و قمر
علم گاہ نامیہ کس درجہ رخشندہ ہے تو
حال اور ماضی کا سنگم، خواب آئندہ ہے تو
نازشِ علم و ہنر تیری فضاؤں کو سلام
تیرے لطفِ خاص، تیری اداؤں کو سلام
درس گاہِ قوم و ملت اے محبت کے شجر
تیری پرچھائیں سے چمکے کتنے ہی شمس و قمر
علم گاہ نامیہ کس درجہ رخشندہ ہے تو
حال اور ماضی کا سنگم، خواب آئندہ ہے تو
حیرت ہے کسی ہاتھ میں پتھر بھی نہیں ہے
اور شہر میں محفوظ کوئی سر بھی نہیں ہے
اُس شخص کو کچھ لوگ بڑھانے میں لگے ہیں
جو شخص مِرے قد کے برابر بھی نہیں ہے
جس شہر کی عظمت ہے مِرے نام سے منسوب
اس شہر میں میرے لیے اک گھر بھی نہیں ہے
غم نگاہوں میں چُھپائے پسِ دیوار ملے
لوگ اس دور میں اپنے سے بھی بیزار ملے
تمتماتے ہوئے چہروں کے تجسّس میں ہمیں
ہر گُزر گاہ پہ بھیگے ہوئے رُخسار ملے
کوئی ایسا نہ تھا، جو درد کا سودا کرتا
سب تِرے شہر میں خُوشیوں خریدار ملے
آج پھر پلکوں پہ کیوں جشن نمو کا نکلا
دل میں جو خار چُبھا تھا، کبھو کا نکلا
خاک میں کیسے ملا کر اُسے رُسوا کرتا
میری آنکھوں میں جو دریا تھا، وضو کا نکلا
جس سے امید تھی وہ میری طرف بولے گا
وہ بھی نکلا تو طرف دار عدو کا نکلا
میں شہر میں ہوں کہ صحرائے بے کنار میں ہوں
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کس دیار میں ہوں
مجھے یقیں ہے کہ اک دن ضرور اُبھروں گا
ابھی تو لِپٹا ہوا چادرِ غبار میں ہوں
مِرا ہی تذکرہ کیوں تیری بزمِ ناز میں ہے
مِرا شمار ہی کیا ہے میں کس شمار میں ہوں