Showing posts with label حبیب ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label حبیب ہاشمی. Show all posts

Monday, 4 March 2024

نازش علم و ہنر تیری فضاؤں کو سلام

 نازشِ علم و ہنر تیری فضاؤں کو سلام

تیرے لطفِ خاص، تیری اداؤں کو سلام

درس گاہِ قوم و ملت اے محبت کے شجر

تیری پرچھائیں سے چمکے کتنے ہی شمس و قمر

علم گاہ نامیہ کس درجہ رخشندہ ہے تو

حال اور ماضی کا سنگم، خواب آئندہ ہے تو

Thursday, 8 February 2024

حیرت ہے کسی ہاتھ میں پتھر بھی نہیں ہے

 حیرت ہے کسی ہاتھ میں پتھر بھی نہیں ہے

اور شہر میں محفوظ کوئی سر بھی نہیں ہے

اُس شخص کو کچھ لوگ بڑھانے میں لگے ہیں

جو شخص مِرے قد کے برابر بھی نہیں ہے

جس شہر کی عظمت ہے مِرے نام سے منسوب

اس شہر میں میرے لیے اک گھر بھی نہیں ہے

Monday, 15 January 2024

غم نگاہوں میں چھپائے پس دیوار ملے

 غم نگاہوں میں چُھپائے پسِ دیوار ملے

لوگ اس دور میں اپنے سے بھی بیزار ملے

تمتماتے ہوئے چہروں کے تجسّس میں ہمیں

ہر گُزر گاہ پہ بھیگے ہوئے رُخسار ملے

کوئی ایسا نہ تھا، جو درد کا سودا کرتا

سب تِرے شہر میں خُوشیوں خریدار ملے

Monday, 20 December 2021

آج پھر پلکوں پہ کیوں جشن نمو کا نکلا

آج پھر پلکوں پہ کیوں جشن نمو کا نکلا

دل میں جو خار چُبھا تھا، کبھو کا نکلا

خاک میں کیسے ملا کر اُسے رُسوا کرتا

میری آنکھوں میں جو دریا تھا، وضو کا نکلا

جس سے امید تھی وہ میری طرف بولے گا

وہ بھی نکلا تو طرف دار عدو کا نکلا

Sunday, 14 November 2021

میں شہر میں ہوں کہ صحرائے بے کنار میں ہوں

 میں شہر میں ہوں کہ صحرائے بے کنار میں ہوں

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کس دیار میں ہوں

مجھے یقیں ہے کہ اک دن ضرور اُبھروں گا

ابھی تو لِپٹا ہوا چادرِ غبار میں ہوں

مِرا ہی تذکرہ کیوں تیری بزمِ ناز میں ہے

مِرا شمار ہی کیا ہے میں کس شمار میں ہوں