آج پھر پلکوں پہ کیوں جشن نمو کا نکلا
دل میں جو خار چُبھا تھا، کبھو کا نکلا
خاک میں کیسے ملا کر اُسے رُسوا کرتا
میری آنکھوں میں جو دریا تھا، وضو کا نکلا
جس سے امید تھی وہ میری طرف بولے گا
وہ بھی نکلا تو طرف دار عدو کا نکلا
میں نے سوچا کہ نگاہوں سے گرا دوں اس کو
کیا کروں؟ رشتہ مِرا اُس سے لہو کا نکلا
حبیب ہاشمی
No comments:
Post a Comment