Monday, 20 December 2021

آج پھر پلکوں پہ کیوں جشن نمو کا نکلا

آج پھر پلکوں پہ کیوں جشن نمو کا نکلا

دل میں جو خار چُبھا تھا، کبھو کا نکلا

خاک میں کیسے ملا کر اُسے رُسوا کرتا

میری آنکھوں میں جو دریا تھا، وضو کا نکلا

جس سے امید تھی وہ میری طرف بولے گا

وہ بھی نکلا تو طرف دار عدو کا نکلا

میں نے سوچا کہ نگاہوں سے گرا دوں اس کو

کیا کروں؟ رشتہ مِرا اُس سے لہو کا نکلا


حبیب ہاشمی

No comments:

Post a Comment