اک آہ جگر سوز دبی ہے تن میں
بھڑکے تو جہاں سارے کو شعلہ ہی بنا دے
اک چیخ ابھر آئی ہے گر لب پہ ہمارے
ڈر ہے تِرے پہلو میں قیامت نہ اٹھا دے
جلتی ہوئی حسرت کا نظارہ ہے مرا دل
توحید کے قرآن کا پارہ ہے مِرا دل
اک آہ جگر سوز دبی ہے تن میں
بھڑکے تو جہاں سارے کو شعلہ ہی بنا دے
اک چیخ ابھر آئی ہے گر لب پہ ہمارے
ڈر ہے تِرے پہلو میں قیامت نہ اٹھا دے
جلتی ہوئی حسرت کا نظارہ ہے مرا دل
توحید کے قرآن کا پارہ ہے مِرا دل
ہم اہل حرم ہیں اب ہم سے یہ کفر گوارہ کیسے ہو
ہم لوگ انالحق بولیں گے ہم لوگ انالحق بولیں گے
جب دنیا کے بت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو
جب انسان کی عظمت پر اک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں اک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
حرم سے صنم خانے تک
جھکا نہ سوئے آدم جو
خدا کے حکم کو توڑا
سو ہر انسان کے من میں
وہی ابلیس بیٹھا ہے
یہ آزادئ نسواں بھی ہے
منِ ابلیس کی سازش
خُدا کی بستی میں بُت پرستی نہیں مناسب
خُدا کی بستی میں رہنے والے زیادہ تر لوگ
خُدا کی پُوجا سے مُنحرف ہیں
بُتوں کی پُوجا بڑھا رہے ہیں
نئے نئے بُت بنا رہے ہیں
کبھی یہ مغرب، کبھی یہ مشرق
کبھی یہ تہذیب کے بُتوں کو بڑے سلیقے سے پُوجتے ہیں