Showing posts with label مشتاق سبقت. Show all posts
Showing posts with label مشتاق سبقت. Show all posts

Tuesday, 11 March 2025

اک آہ جگر سوز دبی ہے تن میں

 اک آہ جگر سوز دبی ہے تن میں

بھڑکے تو جہاں سارے کو شعلہ ہی بنا دے

اک چیخ ابھر آئی ہے گر لب پہ ہمارے

ڈر ہے تِرے پہلو میں قیامت نہ اٹھا دے

جلتی ہوئی حسرت کا نظارہ ہے مرا دل

توحید کے قرآن کا پارہ ہے مِرا دل

Thursday, 25 July 2024

ہم لوگ انالحق بولیں گے ہم لوگ انالحق بولیں گے

 ہم اہل حرم ہیں اب ہم سے یہ کفر گوارہ کیسے ہو

ہم لوگ انالحق بولیں گے ہم لوگ انالحق بولیں گے


جب دنیا کے بت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو

جب  انسان کی عظمت پر اک پتھر کا دم بھاری ہو

جب من کی جمنا میلی ہو اور روح میں اک بیزاری ہو

جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو

Thursday, 6 June 2024

جھکا نہ سوئے آدم جو خدا کے حکم کو توڑا

 حرم سے صنم خانے تک


جھکا نہ سوئے آدم جو 

خدا کے حکم کو توڑا

سو ہر انسان کے من میں 

وہی ابلیس بیٹھا ہے

یہ آزادئ نسواں بھی ہے 

منِ ابلیس کی سازش

Wednesday, 5 June 2024

خدا کی بستی میں بت پرستی نہیں مناسب

 خُدا کی بستی میں بُت پرستی نہیں مناسب


خُدا کی بستی میں رہنے والے زیادہ تر لوگ

خُدا کی پُوجا سے مُنحرف ہیں

بُتوں کی پُوجا بڑھا رہے ہیں

نئے نئے بُت بنا رہے ہیں

کبھی یہ مغرب، کبھی یہ مشرق

کبھی یہ تہذیب کے بُتوں کو بڑے سلیقے سے پُوجتے ہیں