لوٹ آئے گا دیکھنا مِرے دوست
جگمگائے گا راستہ مرے دوست
حضرتِ داغ کے میں سائے میں ہوں
حضرتِ جون ایلیا مرے دوست
کچھ گنہ گار بھی ہیں یار مِرے
اور ہیں چند پارسا مرے دوست
لوٹ آئے گا دیکھنا مِرے دوست
جگمگائے گا راستہ مرے دوست
حضرتِ داغ کے میں سائے میں ہوں
حضرتِ جون ایلیا مرے دوست
کچھ گنہ گار بھی ہیں یار مِرے
اور ہیں چند پارسا مرے دوست
تجھ سے محوِ گفتگو ہونا پڑا
میں سے ہجرت کر کے تُو ہونا پڑا
میں ابھی جی بھر کے جی پایا نہ تھا
موت تیرے رو برو ہونا پڑا
میں پریشانی میں گھرتا تھا کبھی
اور حیراں بھی کبھو ہونا پڑا
تِرے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے
ہوا تھمی ہوئی ہے اور رہگزر خموش ہے
ہیں اپنی اپنی جا پہ دونوں مضطرب کہ کیا کریں
تِری نگہ میں شور ہے، مِری نظر خموش ہے
تِری صدائیں آ نہیں رہی ہیں اس سکوت میں
کہ ہونٹ ہل رہے ہیں تیرے تُو مگر خموش ہے
تیز ہے میرا قلم تلوار سے
دوست خائف ہیں مِری رفتار سے
جیب میں کچھ بھی نہیں تھا اس لیے
لوٹ کر میں آ گیا بازار سے
جھولیاں بھر بھر کے جاتے ہیں سبھی
نوشۂ لجپال کے دربار سے
تِرے لیے تو مِرے پاس بس دعا ہے یار
تو اس زمیں پہ بہت اونچا اڑ رہا ہے یار
یہ کھڑکیاں تو مجھے اور کہہ رہی ہیں کچھ
سمجھ مِرے دلِ نادان یہ ہوا ہے یار
یہ دنیا دار مجھے کس طرح سے دیکھتے ہیں
کہ یہ بشر ہے فرشتہ ہے دیوتا ہے یار
اس دشتِ بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے
پاس اس دلِ حزیں کا تو ورنہ مجھے بھی ہے
دنیا حسین تر ہے، مگر اے مِرے خدا
بھیجا ہے تُو نے اور گزرنا مجھے بھی ہے
فرصت ملی تو ترک کروں گا تعلقات
یہ کام ایک بار تو کرنا مجھے بھی ہے
مسلسل اک مشقت بے سبب ہے
محبت بھی بہت محنت طلب ہے
تمہارا غم ہے رشتہ دار میرا
تمہاری یاد ہی میرا نسب ہے
تم آ جاتے تو اچھا تھا مگر اب
مِرے دل میں یہی اک آس کب ہے
نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق
میں سچ کہوں تو فقط ہے ہی کائنات میں عشق
میں عشق زاد چراغوں کی بزم میں رہا ہوں
سو جل رہا ہے ابھی میرے دائیں ہات میں عشق
وہ حسن نور کی بارش میں جب نہا رہا تھا
مچل رہا تھا بہت تب تجلیات میں عشق
ہماری آنکھوں سے اشک بن کر نکل رہی ہے
کسی کی یادوں کی برف دل میں پگھل رہی ہے
میں دوسری بار اس کے رستے میں آ رہا ہوں
وہ دوسری بار اپنا رستہ بدل رہی ہے
ہمارے جسموں پہ چادرِ غم پڑی ہوئی ہے
ہماری روحوں کو اِک اُداسی نگل رہی ہے