Showing posts with label اعزاز کاظمی. Show all posts
Showing posts with label اعزاز کاظمی. Show all posts

Sunday, 1 January 2023

لوٹ آئے گا دیکھنا مرے دوست

 لوٹ آئے گا دیکھنا مِرے دوست

جگمگائے گا راستہ مرے دوست

حضرتِ داغ کے میں سائے میں ہوں

حضرتِ جون ایلیا مرے دوست

کچھ گنہ گار بھی ہیں یار مِرے

اور ہیں چند پارسا مرے دوست

Thursday, 9 June 2022

تجھ سے محو گفتگو ہونا پڑا

 تجھ سے محوِ گفتگو ہونا پڑا

میں سے ہجرت کر کے تُو ہونا پڑا

میں ابھی جی بھر کے جی پایا نہ تھا

موت تیرے رو برو ہونا پڑا

میں پریشانی میں گھرتا تھا کبھی

اور حیراں بھی کبھو ہونا پڑا

Thursday, 4 November 2021

ترے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے

 تِرے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے

ہوا تھمی ہوئی ہے اور رہگزر خموش ہے

ہیں اپنی اپنی جا پہ دونوں مضطرب کہ کیا کریں

تِری نگہ میں شور ہے، مِری نظر خموش ہے

تِری صدائیں آ نہیں رہی ہیں اس سکوت میں

کہ ہونٹ ہل رہے ہیں تیرے تُو مگر خموش ہے

Friday, 22 October 2021

تیز ہے میرا قلم تلوار سے

 تیز ہے میرا قلم تلوار سے

دوست خائف ہیں مِری رفتار سے

جیب میں کچھ بھی نہیں تھا اس لیے

لوٹ کر میں آ گیا بازار سے

جھولیاں بھر بھر کے جاتے ہیں سبھی

نوشۂ لجپال کے دربار سے

Monday, 18 October 2021

ترے لیے تو مرے پاس بس دعا ہے یار

 تِرے لیے تو مِرے پاس بس دعا ہے یار

تو اس زمیں پہ بہت اونچا اڑ رہا ہے یار

یہ کھڑکیاں تو مجھے اور کہہ رہی ہیں کچھ

سمجھ مِرے دلِ نادان یہ ہوا ہے یار

یہ دنیا دار مجھے کس طرح سے دیکھتے ہیں

کہ یہ بشر ہے فرشتہ ہے دیوتا ہے یار

Sunday, 17 October 2021

اس دشت بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے

 اس دشتِ بے اماں میں اترنا مجھے بھی ہے

پاس اس دلِ حزیں کا تو ورنہ مجھے بھی ہے

دنیا حسین تر ہے، مگر اے مِرے خدا

بھیجا ہے تُو نے اور گزرنا مجھے بھی ہے

فرصت ملی تو ترک کروں گا تعلقات

یہ کام ایک بار تو کرنا مجھے بھی ہے

Friday, 15 October 2021

مسلسل اک مشقت بے سبب ہے

 مسلسل اک مشقت بے سبب ہے 

محبت بھی بہت محنت طلب ہے 

تمہارا غم ہے رشتہ دار میرا 

تمہاری یاد ہی میرا نسب ہے 

تم آ جاتے تو اچھا تھا مگر اب 

مِرے دل میں یہی اک آس کب ہے

Thursday, 14 October 2021

نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق

 نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق

میں سچ کہوں تو فقط ہے ہی کائنات میں عشق

میں عشق زاد چراغوں کی بزم میں رہا ہوں

سو جل رہا ہے ابھی میرے دائیں ہات میں عشق

وہ حسن نور کی بارش میں جب نہا رہا تھا

مچل رہا تھا بہت تب تجلیات میں عشق

Friday, 2 July 2021

ہماری آنکھوں سے اشک بن کر نکل رہی ہے

 ہماری آنکھوں سے اشک بن کر نکل رہی ہے

کسی کی یادوں کی برف دل میں پگھل رہی ہے

میں دوسری بار اس کے رستے میں آ رہا ہوں

وہ دوسری بار اپنا رستہ بدل رہی ہے

ہمارے جسموں پہ چادرِ غم پڑی ہوئی ہے

ہماری روحوں کو اِک اُداسی نگل رہی ہے