Thursday, 14 October 2021

نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق

 نہیں کہ زندہ ہے بس ایک میری ذات میں عشق

میں سچ کہوں تو فقط ہے ہی کائنات میں عشق

میں عشق زاد چراغوں کی بزم میں رہا ہوں

سو جل رہا ہے ابھی میرے دائیں ہات میں عشق

وہ حسن نور کی بارش میں جب نہا رہا تھا

مچل رہا تھا بہت تب تجلیات میں عشق

میں سوچتا ہوں کہ کیا ہوتا دہر میں ہر سُو

اگر نہ ہوتا کہیں تیرے شش جہات میں عشق

قلم سے لکھا گیا ہے ورق پہ حرفِ سکوت

تڑپ رہا ہے مِری نیلگوں دوات میں عشق

کہیں پہ زندہ ہے یہ جیت کے ہر اک بازی

کہیں پہ روشنیاں کر رہا ہے مات میں عشق

کہیں ہیں دنیا کی رنگینیاں تعاقب میں

کہیں جھلکتا ہے میری ہر ایک بات میں عشق


اعزاز کاظمی

No comments:

Post a Comment