Showing posts with label زاہد ڈار. Show all posts
Showing posts with label زاہد ڈار. Show all posts

Saturday, 25 March 2023

تخلیق اور تخریب کا سلسلہ جاری ہے

 آغاز اور انجام سے بے خبر

کہانی ہوتی رہی

وقت کے سمندر میں

کتنے ہی جزیرے ڈوب گئے

کتنے ہی جہاز غرق ہوگئے

فطرت کے کارخانے میں

Tuesday, 21 March 2023

دکھ اور اذیت اور بے بسی کہاں سے آتے ہیں

 دکھ اور اذیت اور بے بسی کہاں سے آتے ہیں

انسان پر ظلم کون کرتا ہے؟

پانی کا بہاؤ تیز ہے

لیکن پانی سوچ نہیں سکتا

ہوائیں اندھی ہیں

سورج بے نیاز ہے

Friday, 7 October 2022

دکھ کے پھول بدی کے شعلے سکھ کی گھاس سب بکواس

 واپسی


دکھ کے پھول، بدی کے شعلے، سکھ کی گھاس 

سب بکواس

لرمنتوف اور دوستوفسکی، بودلئیر اور استاں دال

ایک سے ایک وبال

گوتم بدھ اور افلاطون

محض جنون

Sunday, 25 April 2021

میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں

 میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں 

میں انسانوں کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں 

میں انسانوں سے نفرت نہیں کرتا 

میں ایک عورت سے محبت کرتا ہوں 

میں دنیا کے راستوں پر چلنے سے معذور ہوں 

میں اکیلا ہوں 

Tuesday, 13 April 2021

زاہد خشک ہوں دنیا میں نہ پوچھو مجھ کو

 زاہدِ خشک ہوں دنیا میں نہ پوچھو مجھ کو 

دیکھنا ہو تو کسی پگ پہ کسی پیڑ کے نیچے جس کی 

ایک بھی شاخ نہ پتوں سے ہری ہو دیکھو 

یا کسی ناؤ میں جو 

پار جاتی ہوئی روحوں سے بھری ہو دیکھو 

پار جانا ہے مجھے 

Monday, 12 April 2021

ایک ویران گاؤں میں انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں

 ایک ویران گاؤں میں


انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں

اب جہاں دھوپ کی لہروں کے سوا کچھ بھی نہیں

سبز، لہراتے ہوئے کھیت ہوا کرتے تھے

لوگ آباد تھے، پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں

پھول کلیاں مہکتی تھیں وہاں باغوں میں

Sunday, 11 April 2021

گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت

 گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت

گھر کی قید سے بھاگی ہوئی عورت

گرد سے اٹی ہوئی

تھکی ہوئی اور ڈگمگاتی ہوئی

اداس اور پریشان

دنیا کے اجنبی اور بے رحم راستے پر

جس دن میرے دیس کی مٹی

 زوال کا دن


جس دن میرے دیس کی مٹی

کومل مٹی

پتھر بن کر

محلوں اور قلعوں کے روپ میں ڈھل جائے گی

اس دن گندم جل جائے گی