آغاز اور انجام سے بے خبر
کہانی ہوتی رہی
وقت کے سمندر میں
کتنے ہی جزیرے ڈوب گئے
کتنے ہی جہاز غرق ہوگئے
فطرت کے کارخانے میں
آغاز اور انجام سے بے خبر
کہانی ہوتی رہی
وقت کے سمندر میں
کتنے ہی جزیرے ڈوب گئے
کتنے ہی جہاز غرق ہوگئے
فطرت کے کارخانے میں
دکھ اور اذیت اور بے بسی کہاں سے آتے ہیں
انسان پر ظلم کون کرتا ہے؟
پانی کا بہاؤ تیز ہے
لیکن پانی سوچ نہیں سکتا
ہوائیں اندھی ہیں
سورج بے نیاز ہے
واپسی
دکھ کے پھول، بدی کے شعلے، سکھ کی گھاس
سب بکواس
لرمنتوف اور دوستوفسکی، بودلئیر اور استاں دال
ایک سے ایک وبال
گوتم بدھ اور افلاطون
محض جنون
میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں
میں انسانوں کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں
میں انسانوں سے نفرت نہیں کرتا
میں ایک عورت سے محبت کرتا ہوں
میں دنیا کے راستوں پر چلنے سے معذور ہوں
میں اکیلا ہوں
زاہدِ خشک ہوں دنیا میں نہ پوچھو مجھ کو
دیکھنا ہو تو کسی پگ پہ کسی پیڑ کے نیچے جس کی
ایک بھی شاخ نہ پتوں سے ہری ہو دیکھو
یا کسی ناؤ میں جو
پار جاتی ہوئی روحوں سے بھری ہو دیکھو
پار جانا ہے مجھے
ایک ویران گاؤں میں
انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں
اب جہاں دھوپ کی لہروں کے سوا کچھ بھی نہیں
سبز، لہراتے ہوئے کھیت ہوا کرتے تھے
لوگ آباد تھے، پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں
پھول کلیاں مہکتی تھیں وہاں باغوں میں
گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت
گھر کی قید سے بھاگی ہوئی عورت
گرد سے اٹی ہوئی
تھکی ہوئی اور ڈگمگاتی ہوئی
اداس اور پریشان
دنیا کے اجنبی اور بے رحم راستے پر
زوال کا دن
جس دن میرے دیس کی مٹی
کومل مٹی
پتھر بن کر
محلوں اور قلعوں کے روپ میں ڈھل جائے گی
اس دن گندم جل جائے گی