Monday, 12 April 2021

ایک ویران گاؤں میں انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں

 ایک ویران گاؤں میں


انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں

اب جہاں دھوپ کی لہروں کے سوا کچھ بھی نہیں

سبز، لہراتے ہوئے کھیت ہوا کرتے تھے

لوگ آباد تھے، پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں

پھول کلیاں مہکتی تھیں وہاں باغوں میں

محفلیں جمتی تھیں، افسانے سنے جاتے تھے

آج ویران مکانوں میں ہوا چیختی ہے

دھوکہ میں اُڑتے کتابوں کے ورق

مجھ سے کہتے ہیں؛ رہ جاؤ یہیں

اور میں سوچتا ہوں، صرف اندھیرا ہے یہاں

پھر ہوا آتی ہے، ہوا، دیوانی ہوا

اور کہتی ہے؛ نہیں صرف اندھیرا تو نہیں

یاد ہیں وہ لمحے جن میں

لوگ آزاد تھے اور زندہ تھے

آؤ، میں تم کو دکھاؤں وہ مقام

ایک ویران جگہ، اینٹوں کا انبار، نہیں کچھ بھی نہیں

اور وہ کہتی ہے؛ یہ پیار کا مرکز تھا کبھی

کس کی یاد آئے مجھے، کس کی، بتاؤ کس کی

اور اب چپ ہے ہوا، چپ ہے زمیں

بول اے وقت، کہاں ہیں وہ لوگ

جن کو وہ یاد ہیں، جن کی یادیں

ان ہواؤں میں پریشان ہیں آج


زاہد ڈار

No comments:

Post a Comment