میرا ہے یقیں مجھ کو دلاتا بھی نہیں ہے
لکھ لکھ کے مِرا نام مٹاتا بھی نہیں ہے
کہتا ہے کہ آ جاؤں گا، آتا بھی نہیں ہے
دل ہے کہ ستمگر کو بھلاتا بھی نہیں ہے
ہونٹوں پہ تبسم بھی ہے آنکھوں میں نمی بھی
غم ہے کہ خوشی دل کو، بتاتا بھی نہیں ہے
انکار بھی کرتا نہیں، بے گانہ روی بھی
رہتا ہے خفا مجھ سے، ستاتا بھی نہیں ہے
کیا اس سے گِلہ ہو کہ وہی میرا قمر ہے
بس گھر نہیں آتا، کہیں جاتا بھی نہیں ہے
قمر زیدی
No comments:
Post a Comment