Monday, 12 April 2021

میرا ہے یقیں مجھ کو دلاتا بھی نہیں ہے

 میرا ہے یقیں مجھ کو دلاتا بھی نہیں ہے

لکھ لکھ کے مِرا نام مٹاتا بھی نہیں ہے

کہتا ہے کہ آ جاؤں گا، آتا بھی نہیں ہے

دل ہے کہ ستمگر کو بھلاتا بھی نہیں ہے

ہونٹوں پہ تبسم بھی ہے آنکھوں میں نمی بھی

غم ہے کہ خوشی دل کو، بتاتا بھی نہیں ہے

انکار بھی کرتا نہیں، بے گانہ روی بھی

رہتا ہے خفا مجھ سے، ستاتا بھی نہیں ہے

کیا اس سے گِلہ ہو کہ وہی میرا قمر ہے

بس گھر نہیں آتا، کہیں جاتا بھی نہیں ہے


قمر زیدی

No comments:

Post a Comment