سر جھکاؤں کس طرح دستار ہے اپنی جگہ
بات ہے کردار کی کردار ہے اپنی جگہ
آہ مفلس کی یقیناً رنگ لائے گی ضرور
ظلم پر آمادہ گو زردار ہے اپنی جگہ
بھائی بٹوارہ یہ ہے گھر بار کا، دل کا نہیں
گرچہ آنگن بیچ کی دیوار ہے اپنی جگہ
سر جھکاؤں کس طرح دستار ہے اپنی جگہ
بات ہے کردار کی کردار ہے اپنی جگہ
آہ مفلس کی یقیناً رنگ لائے گی ضرور
ظلم پر آمادہ گو زردار ہے اپنی جگہ
بھائی بٹوارہ یہ ہے گھر بار کا، دل کا نہیں
گرچہ آنگن بیچ کی دیوار ہے اپنی جگہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تزئین چار سو ہے محمدؐ کے شہر میں
فردوس ہو بہو ہے محمدؐ کے شہر میں
اللہ رے مزاج بدلتا نہیں جنوں
دیوانہ سرخرو ہے محمدؐ کے شہر میں
ہستی لٹا کے دیکھ لے ہستی کا مرتبہ
آئینہ رو برو ہے محمدؐ کے شہر میں
کھڑکیاں دل کی کھول اے بھائی
حسنِ ظن پھر ٹٹول اے بھائی
حرف شیریں ہی بول اے بھائی
شہد کانوں میں گھول اے بھائی
تیرے گاہک نہ ٹوٹ جائیں کہیں
کم تو ہرگز نہ تول اے بھائی
یوں زندگی کی ہم نے سِیہ رات کاٹ دی
بِن چھت کے گھر میں جیسے کہ برسات کاٹ دی
آتا ہو ملک و قوم کی عزت پہ جس سے حرف
ہم نے خدا گواہ! وہ ہر بات کاٹ دی
گزری جو ناگوار ہمارے ضمیر کو
مل بھی گئی تو ہم نے وہ سوغات کاٹ دی