Wednesday, 23 March 2022

کھڑکیاں دل کی کھول اے بھائی

کھڑکیاں دل کی کھول اے بھائی

حسنِ ظن پھر ٹٹول اے بھائی

حرف شیریں ہی بول اے بھائی

شہد کانوں میں گھول اے بھائی

تیرے گاہک نہ ٹوٹ جائیں کہیں

کم تو ہرگز نہ تول اے بھائی

کیسے پیتل بکے گا سونے میں

جھول پھر بھی ہے جھول اے بھائی

بھینس گائے بھی جب کہ بکتی ہے

موتی ہیروں کے مول اے بھائی

کر لے کھوٹے کھرے کی یوں پہچان

تو کسوٹی پہ رول اے بھائی

اپنی دولت کا اپنی شہرت کا

پیٹتا کیوں ہے ڈھول اے بھائی

خطرہ لا حق ہو موت کا نیر💢

پھر بھی حق بات بول اے بھائی


نیر گنگوہی

سعید احمد قریشی

No comments:

Post a Comment