دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں
زر زادگانِ شہر محبت کہاں سے لائیں
وہ جن کے دل کے ساتھ نہ دھڑکا ہو کوئی دل
زندہ بھی ہیں تو اس کی شہادت کہاں سے لائیں
دو حرف اپنے دل کی گواہی کے واسطے
کہنا بھی چاہتے ہوں تو جرأت کہاں سے لائیں
دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں
زر زادگانِ شہر محبت کہاں سے لائیں
وہ جن کے دل کے ساتھ نہ دھڑکا ہو کوئی دل
زندہ بھی ہیں تو اس کی شہادت کہاں سے لائیں
دو حرف اپنے دل کی گواہی کے واسطے
کہنا بھی چاہتے ہوں تو جرأت کہاں سے لائیں
وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے
لہو میں آج قیامت کی برف باری ہے
مچا ہوا ہے بدن میں لہو کا واویلا
کہیں سے کوئی کمک لاؤ زہر کاری ہے
یہ دل ہے یا کسی آفت رسیدہ شہر کی رات
کہ جتنا شور تھا اتنا سکوت طاری ہے
کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے
صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے
ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے