Showing posts with label رضی اختر شوق. Show all posts
Showing posts with label رضی اختر شوق. Show all posts

Thursday, 20 July 2023

دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں

 دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں 

زر زادگانِ شہر محبت کہاں سے لائیں 

وہ جن کے دل کے ساتھ نہ دھڑکا ہو کوئی دل 

زندہ بھی ہیں تو اس کی شہادت کہاں سے لائیں 

دو حرف اپنے دل کی گواہی کے واسطے 

کہنا بھی چاہتے ہوں تو جرأت کہاں سے لائیں 

Friday, 29 April 2022

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے

لہو میں آج قیامت کی برف باری ہے

مچا ہوا ہے بدن میں لہو کا واویلا

کہیں سے کوئی کمک لاؤ زہر کاری ہے

یہ دل ہے یا کسی آفت رسیدہ شہر کی رات

کہ جتنا شور تھا اتنا سکوت طاری ہے

Sunday, 18 October 2020

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے

 کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے

ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے

صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل

افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے

ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں

ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے

Thursday, 26 December 2019

میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں

میں جب بھی قتل ہو کر دیکھتا ہوں 
تو اپنوں ہی کا لشکر دیکھتا ہوں 
میں دنیا اپنے اندر دیکھتا ہوں 
یہیں پہ سارا منظر دیکھتا ہوں 
مجھے اس جرم میں اندھا کیا ہے 
کہ بینائی سے بڑھ کر دیکھتا ہوں 

کم قامتان شہر برابر کے ہو گئے

آوارگانِ شوق سبھی گھر کے ہو گئے
اک ہم ہی ہیں کہ کوچۂ دلبر کے ہو گئے
پھر یوں ہوا کہ تجھ سے بچھڑنا پڑا ہمیں
پھر یوں لگا کہ شہر سمندر کے ہو گئے
کچھ دائرے تغیر دنیا کے ساتھ ساتھ
ایسے کھنچے کہ ایک ہی محور کے ہو گئے

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا

نہ فاصلے کوئی رکھنا، نہ قربتیں رکھنا
بس اب بقدرِ غزل اس سے نسبتیں رکھنا
یہ کس تعلقِ خاطر کا دے رہا ہے سراغ
کبھی کبھی تِرا مجھ سے شکایتیں رکھنا
فضائے شہر میں اب کے بڑی کدورت ہے
بہت سنبھال کے اپنی محبتیں رکھنا

خوشبو ہیں تو ہر دور کو مہکائیں گے ہم لوگ

خوشبو ہیں تو ہر دور کو مہکائیں گے ہم لوگ
مٹی ہیں تو پل بھر میں بکھر جائیں گے ہم لوگ
مہلت ہے تو جی بھر کے کرو سیر یہاں کی
پھر ایسا خرابہ بھی کہاں پائیں گے ہم لوگ
بیٹھو کہ ابھی ہے یہ گھنی چھاؤں، میسر
ڈھلتا ہوا سایہ ہیں گزر جائیں گے ہم لوگ

Sunday, 24 January 2016

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتا

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتا
ابھی آ جائے گا بادل کوئی ۔۔ بارش کرتا
گھر سے نکلا تو جہاں زاد خدا اتنے تھے
میں انا زاد بھی کس کس کی پرستش کرتا
ہم تو ہر لفظ میں جاناں تِری تصویر ہوئے
اس طرح کون سا آئینہ ۔۔ ستائش کرتا

تم نغمہ ماہ ہو انجم ہو تم سوز تمنا کیا جانو

تم نغمۂ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو
تم دردِ محبت کیا سمجھو، تم دل کا تڑپنا کیا جانو
سو بار اگر تم روٹھ گئے، ہم تم کو منا ہی لیتے تھے
ایک بار اگر ہم روٹھ گئے ۔۔ تم ہم کو منانا کیا جانو
تخریبِ محبت آسان ہے ۔۔ تعمیرِ محبت مشکل ہے
تم آگ لگانا سیکھ گئے ۔۔ تم آگ بجھانا کیا جانو

یہ کون ڈوب گیا اور ابھر گیا مجھ میں

یہ کون ڈوب گیا اور ابھر گیا مجھ میں 
یہ کون سائے کی صورت گزر گیا مجھ میں 
یہ کس کے سوگ میں شوریدہ حال پھرتا ہوں
وہ کون شخص تھا ایسا کہ مر گیا مجھ میں 
عجب ہوائے بہاراں نے چارہ سازی کی 
وہ زخم جس کو نہ بھرنا تھا بھر گیا مجھ میں

کوئی بجھتا ہوا منظر نہیں دیکھا جاتا

کوئی بجھتا ہوا منظر نہیں دیکھا جاتا
اب کسی آنکھ کو پتھر نہیں دیکھا جاتا
وہ ہمارا نہ سہی ۔۔ اور قبیلے کا سہی
ہم سے پسپا کوئی لشکرنہیں دیکھا جاتا
کیا یہ سچ ہے کہ تِرے آئینہ خانوں میں مجھے
میرے قامت کے برابر نہیں دیکھا جاتا

Friday, 13 November 2015

اے خدا صبر دے مجھ کو نہ شکیبائی دے

اے خدا صبر دے مجھ کو، نہ شکیبائی دے
زخم وہ دے جو مِری روح کو گہرائی دے
خلقتِ شہر یونہی خوش ہے تو پھر یونہی سہی
ان کو پتھر دے، مجھے ظرفِ پزیرائی دے 
جو نگاہوں میں ہے کچھ اس سے سوا بھی دیکھوں
یا ان آنکھوں کو بجھا، یا انہیں بینائی دے

یہ نخل جاں کا ثمر تلخ عمر بھر کا ہے

یہ نخلِ جاں کا ثمر تلخ عمر بھر کا ہے
نہ پوچھ ہم سے کہ کیا ذائقہ ہنر کا ہے
ہجومِ سنگ میں بھی اس خیال سے خوش ہوں
کہ میری ذات سے اک جشن رہگزر کا ہے
جو مثلِ خاک سرِ رہگزار بیٹھے ہیں
ابھی نظر میں کوئی سانحہ سفر کا ہے

یہ کہہ رہا ہے کوئی میرے ساتھ جل جاؤ

یہ کہہ رہا ہے کوئی میرے ساتھ جل جاؤ
تم اپنے دائرۂ ذات سے نکل جاؤ
بکھیر دو مِری موجِ نفس میں نغمے سے
مِرے لہو میں کوئی گیت بن کے ڈھل جاؤ
سبھی درخت نئے برگ و بار لائے ہیں
بدل رہی ہے ہوا، تم بھی اب بدل جاؤ

ایک ہی آگ کے شعلوں میں جلائے ہوئے لوگ

ایک ہی آگ کے شعلوں میں جلائے ہوئے لوگ 
روز مِل جاتے ہیں دو چار ستائے ہوئے لوگ
وہی میں ہوں، وہی آسودہ خرامی میری
اور ہر سمت وہی دام بچھائے ہوئے لوگ
خواب کیسے کہ اب آنکھیں ہی سلامت رہ جائیں
وہ فضا ہے کہ رہیں خود کو بچائے ہوئے لوگ

میں ترے جبر بصارت کی گواہی دوں گا

میں تِرے جبرِ بصارت کی گواہی دوں گا
تُو نہ چاہے بھی تو میں تجھ کو دکھائی دوں گا
کچھ دنوں موسمِ جاں کا ہے یہی رنگ تو میں
ہر لبِ زخم کو اک تازہ نوائی دوں گا
اور پھیلوں گا جو لوٹاؤ گے آواز مِری
اتنا گونجوں گا کہ صدیوں کو سنائی دوں گا

Monday, 5 October 2015

دستک سی یہ کیا تھی کوئی سایہ ہے کہ میں ہوں

دستک سی یہ کیا تھی کوئی سایا ہے کہ میں ہوں
اک شخص مِری طرح کا آیا ہے کہ میں ہوں
سب جیسا ہوں لیکن مِرے تصویر گروں نے
چہرہ مِرا اس رُخ سے بنایا ہے کہ میں ہوں
کیا نیند تھی وہ اپنے نہ ہونے کے نشے کی
کیوں یہ مِرے ہونے نے بتایا ہے کہ میں ہوں

جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے

جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے
شہر کا شہر ہی اب معتقدِ میرؔ لگے
صبح آشفتہ مزاجوں کی پریشاں سخنی
رات اک مارِ سیہ جیسے عناں گیر لگے
اب تو جس آنکھ کو دیکھو وہی پتھرائی ہوئی
اب تو جس چہرے کو آواز دو، تصویر لگے

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی
میں تو سمجھا تھا کہ اک میری ہی گویائی گئی
پھر وہی بادل کہ جی اڑنے کو چاہے جن کے ساتھ
پھر وہی موسم کہ جب زنجیر پہنائی گئی
پھر وہی طائر وہی ان کی غزل خوانی کے دن
پھر وہی رُت جس میں میری نغمہ پیرائی گئی

بچھڑتے وقت تو کچھ اس میں غمگساری تھی

بچھڑتے وقت تو کچھ اس میں غم گساری تھی
وہ آنکھ پھر تو ہر اک کیفیت سے عاری تھی
نہ جانے آج ہواؤں کی زد پہ کون آیا
نہ جانے آج کی شب کس دِیے کی باری تھی
ذرا سی دیر کو چمکی تو تھی غنیم کی تیغ
سوادِ شہر میں پھر روشنی ہماری تھی