ایک ہی آگ کے شعلوں میں جلائے ہوئے لوگ
روز مِل جاتے ہیں دو چار ستائے ہوئے لوگ
وہی میں ہوں، وہی آسودہ خرامی میری
اور ہر سمت وہی دام بچھائے ہوئے لوگ
خواب کیسے کہ اب آنکھیں ہی سلامت رہ جائیں
تیرے محرم تو نہیں، اے نگہِ ناز! مگر
ہم کو پہچان کہ ہیں تیرے بلائے ہوئے لوگ
زندگی! دیکھ، یہ انداز تِری چاہت کا
کن صلیبوں کو ہیں سینے سے لگائے ہوئے لوگ
پھر وہی ہم ہیں وہی حلقہٴ یاراں بھی ہے شوقؔ
پھر وہی شہر، وہی سنگ اُٹھائے ہوئے لوگ
رضی اختر شوق
No comments:
Post a Comment