Sunday, 29 November 2015

جو التفات ذرا بھی نگاہ یار کرے

جو التفات ذرا بھی نگاہِ یار کرے

مِری خزاں کو نہ شرمندۂ بہار کرے

چھپا رہا ہوں میں اے ضبط غم محبت کو

مگر یہ ڈر ہے کہ افشا نگاہ یار کرے

جو بن گیا ہے سبب راحتوں کا دنیا میں

وہی گناہ نہ محشر میں شرمسار کرے

اسی کو حاصل صد زندگی سمجھتا ہوں

وہ نقد‌ عمر جسے صرف راہ یار کرے

وہ جان دے نہ سکوں کی تلاش ہو جس کو

وہ دل ہمیں دے جو ہر لحظہ بیقرار کرے

بناؤں رشک بہاراں نہ کس لیے اس کو

وہ زخم جو مِرے سینے کو گلعذار کرے

نہ سرگراں ہو وہی بادہ چاہتا ہوں میں

وہ بادہ کیا ہو جو صرف رہ خمار کرے

میں مٹ چکا ہوں مگر ڈر مجھے یہ ہے مہدی

ستم نئے نہ کہیں اور روزگار کرے


ہادی مچھلی شہری

سید محمد ہادی

No comments:

Post a Comment