دلوں میں خوف کے چولھے کی آگ ٹھنڈی ہو
کبھی نہ ملنے ملانے کی آگ ٹھنڈی ہو
ہم ایک ساتھ اُٹھا لائے تھے یہ ہجر کی آگ
خدا کرے، تِرے حصے کی آگ ٹھنڈی ہو
پگھل رہے ہیں ہم اک فاصلے پہ بیٹھے ہوئے
گلے لگو کہ یہ سینے کی آگ ٹھنڈی ہو
دلوں میں خوف کے چولھے کی آگ ٹھنڈی ہو
کبھی نہ ملنے ملانے کی آگ ٹھنڈی ہو
ہم ایک ساتھ اُٹھا لائے تھے یہ ہجر کی آگ
خدا کرے، تِرے حصے کی آگ ٹھنڈی ہو
پگھل رہے ہیں ہم اک فاصلے پہ بیٹھے ہوئے
گلے لگو کہ یہ سینے کی آگ ٹھنڈی ہو
اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا
یہاں کے دشت مزاجوں کا حوصلہ رہے گا
ہم ایسے ایسے زمانوں سے ہو کے آئے ہیں
کہ خواب والوں کو خوابوں سے اک گِلہ رہے گا
میں چاہتا ہوں محبت میں زخم آئے مجھے
میں بچ گیا تو محبت میں کیا مزہ رہے گا
تُو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں
کیوں نہ پہلے سے تعلق پہ گزارا کر لیں
ایسی وحشت ہے کہ کمرے میں پڑے سوچتے ہیں
کھولیں کھڑکی کوئی منظر ہی گوارا کر لیں
حاصلِ وصل سے دلکش ہے میاں خواہشِ وصل
ہجر در پیش جو ہے، اس پہ گزارا کر لیں
دور خوابوں سے محبت سے کنارا کر کے
جیسی گزرے گی گزاریں گے گزارا کر کے
اب تو دعویٰ بھی وہ پہلے سا نہیں ہے ہم کو
کیا کریں عشق مِری جان دوبارا کر کے
کیسی اٹھتی ہے کسک وہ ہی سمجھ سکتا ہے
جس نے دیکھا ہو محبت میں خسارا کر کے
ایک تو، ایک عاشقی میری
بس یہی کچھ ہے زندگی میری
دل قناعت ذرا سی کرتا تو
ہر محبت تھی آخری میری
جسے تم لوگ عشق کہتے ہو
اس سے بہتر ہے دل لگی میری
آنکھیں نہیں کُھلتیں کبھی رستہ نہیں کُھلتا
در کُھلتے ہیں آسانی سے، دل کا نہیں کُھلتا
کچھ اور تعلق ہے مِرا تم سے مِری دوست
ورنہ میں ہر اک دوست پہ اتنا نہیں کھلتا
کیا خاک محبت ہے تمہیں مجھ سے کہ تم پر
رونا نہیں کُھلتا مِرا ہنسنا نہیں کھلتا
کوئی سنتا نہیں کس کو پتہ ہے کیا بلا ہے
پکارے جا رہا ہوں کیا بلا ہے کیا بلا ہے
اب ایسے میں شکایت کیا کریں گے ہم تمہاری
جسے دیکھو تمہارا مُبتلا ہے، کیا بلا ہے
ازل سے ہی زمانہ کر رہا ہے حل مرض کا
محبت لاعلاج اپنی جگہ ہے، کیا بلا ہے
جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں
گاؤں کے لوگ ہیں، نقصان کہاں دیکھتے ہیں
جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ
پھول، باغیچہ، و گُلدان کہاں دیکھتے ہیں
قیمتی شے تھی ترا ہجر اٹھائے رکھا
ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں