Showing posts with label عامر لیاقت. Show all posts
Showing posts with label عامر لیاقت. Show all posts

Friday, 4 February 2022

دلوں میں خوف کے چولھے کی آگ ٹھنڈی ہو

 دلوں میں خوف کے چولھے کی آگ ٹھنڈی ہو

کبھی نہ ملنے ملانے کی آگ ٹھنڈی ہو

ہم ایک ساتھ اُٹھا لائے تھے یہ ہجر کی آگ

خدا کرے، تِرے حصے کی آگ ٹھنڈی ہو

پگھل رہے ہیں ہم اک فاصلے پہ بیٹھے ہوئے

گلے لگو کہ یہ سینے کی آگ ٹھنڈی ہو

Wednesday, 15 December 2021

اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا

 اگر یہ چہرہ یوں ہی گرد سے اٹا رہے گا

یہاں کے دشت مزاجوں کا حوصلہ رہے گا

ہم ایسے ایسے زمانوں سے ہو کے آئے ہیں

کہ خواب والوں کو خوابوں سے اک گِلہ رہے گا

میں چاہتا ہوں محبت میں زخم آئے مجھے

میں بچ گیا تو محبت میں کیا مزہ رہے گا

Sunday, 25 April 2021

تو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں

 تُو کوئی خواب نہیں جس سے کنارا کر لیں

کیوں نہ پہلے سے تعلق پہ گزارا کر لیں

ایسی وحشت ہے کہ کمرے میں پڑے سوچتے ہیں

کھولیں کھڑکی کوئی منظر ہی گوارا کر لیں

حاصلِ وصل سے دلکش ہے میاں خواہشِ وصل

ہجر در پیش جو ہے، اس پہ گزارا کر لیں

Sunday, 18 April 2021

دور خوابوں سے محبت سے کنارہ کر کے

 دور خوابوں سے محبت سے کنارا کر کے

جیسی گزرے گی گزاریں گے گزارا کر کے

اب تو دعویٰ بھی وہ پہلے سا نہیں ہے ہم کو

کیا کریں عشق مِری جان دوبارا کر کے

کیسی اٹھتی ہے کسک وہ ہی سمجھ سکتا ہے

جس نے دیکھا ہو محبت میں خسارا کر کے

Thursday, 8 April 2021

ایک تو ایک عاشقی میری

 ایک تو، ایک عاشقی میری

بس یہی کچھ ہے زندگی میری

دل قناعت ذرا سی کرتا تو

ہر محبت تھی آخری میری

جسے تم لوگ عشق کہتے ہو

اس سے بہتر ہے دل لگی میری

آنکھیں نہیں کھلتیں کبھی رستہ نہیں کھلتا

 آنکھیں نہیں کُھلتیں کبھی رستہ نہیں کُھلتا 

در کُھلتے ہیں آسانی سے، دل کا نہیں کُھلتا

کچھ اور تعلق ہے مِرا تم سے مِری دوست

ورنہ میں ہر اک دوست پہ اتنا نہیں کھلتا

کیا خاک محبت ہے تمہیں مجھ سے کہ تم پر

رونا نہیں کُھلتا مِرا ہنسنا نہیں کھلتا

Tuesday, 6 April 2021

کوئی سنتا نہیں کس کو پتہ ہے کیا بلا ہے

 کوئی سنتا نہیں کس کو پتہ ہے کیا بلا ہے

پکارے جا رہا ہوں کیا بلا ہے کیا بلا ہے

اب ایسے میں شکایت کیا کریں گے ہم تمہاری

جسے دیکھو تمہارا مُبتلا ہے، کیا بلا ہے

ازل سے ہی زمانہ کر رہا ہے حل مرض کا

محبت لاعلاج اپنی جگہ ہے، کیا بلا ہے

Thursday, 12 November 2020

جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں

 جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں

گاؤں کے لوگ ہیں، نقصان کہاں دیکھتے ہیں

جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ

پھول، باغیچہ، و گُلدان کہاں دیکھتے ہیں

قیمتی شے تھی ترا ہجر اٹھائے رکھا

ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں