Thursday, 8 April 2021

آنکھیں نہیں کھلتیں کبھی رستہ نہیں کھلتا

 آنکھیں نہیں کُھلتیں کبھی رستہ نہیں کُھلتا 

در کُھلتے ہیں آسانی سے، دل کا نہیں کُھلتا

کچھ اور تعلق ہے مِرا تم سے مِری دوست

ورنہ میں ہر اک دوست پہ اتنا نہیں کھلتا

کیا خاک محبت ہے تمہیں مجھ سے کہ تم پر

رونا نہیں کُھلتا مِرا ہنسنا نہیں کھلتا

کُھلتی ہے کسی خاص پہ ان آنکھوں کی گہرائی

اک عام سے تیراک پہ دریا نہیں کھلتا


عامر لیاقت

No comments:

Post a Comment