میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
دم بھی نہ لینے پاؤ گے دن کی تکان سے
اتنے میں تیر برسیں گے شب کی کمان سے
لفظوں کے پتھروں ہی سے آؤ تراش لیں
کچھ ساعتیں حسین سی لمحے جوان سے
آنسو جو کوئی آنکھ سے ٹپکا تو یوں لگا
جیسے ستارے ٹوٹ گرے آسمان سے
زہرِ غم بے مزا نہیں ہوتا
پھر بھی کیوں حوصلہ نہیں ہوتا
دیکھ لیتا ہے مجھ میں عکس اپنا
اور وہ خود آئینہ نہیں ہوتا
سارے رشتے چراغ جلنے تک
پھر کوئی آشنا نہیں ہوتا
دھواں دھواں ہے غمِ گردشِ سفر سے چراغ
عجیب سہمے ہوئے ہیں ہوا کے ڈر سے چراغ
عجب طلسم کدہ ہے یہ جبر فطرت کا
کہ روشنی میں رہے روشنی کو ترسے چراغ
یہ خامشی کا بیاباں یہ شب کا کوہ سکوت
یہ خواب خواب سا منظر یہ بے خبر ہے چراغ