Showing posts with label ایاز اعظمی. Show all posts
Showing posts with label ایاز اعظمی. Show all posts

Wednesday, 1 July 2026

میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں

 میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں

ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں

اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے

ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں

کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں

چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں

Monday, 25 August 2025

دم بھی نہ لینے پاؤ گے دن کی تکان سے

دم بھی نہ لینے پاؤ گے دن کی تکان سے

اتنے میں تیر برسیں گے شب کی کمان سے

لفظوں کے پتھروں ہی سے آؤ تراش لیں

کچھ ساعتیں حسین سی لمحے جوان سے

آنسو جو کوئی آنکھ سے ٹپکا تو یوں لگا

جیسے ستارے ٹوٹ گرے آسمان سے

Thursday, 3 August 2023

زہر غم بے مزا نہیں ہوتا

زہرِ غم بے مزا نہیں ہوتا

پھر بھی کیوں حوصلہ نہیں ہوتا

دیکھ لیتا ہے مجھ میں عکس اپنا

اور وہ خود آئینہ نہیں ہوتا

سارے رشتے چراغ جلنے تک

پھر کوئی آشنا نہیں ہوتا

Wednesday, 3 November 2021

دھواں دھواں ہے غم گردش سفر سے چراغ

دھواں دھواں ہے غمِ گردشِ سفر سے چراغ

عجیب سہمے ہوئے ہیں ہوا کے ڈر سے چراغ

عجب طلسم کدہ ہے یہ جبر فطرت کا

کہ روشنی میں رہے روشنی کو ترسے چراغ

یہ خامشی کا بیاباں یہ شب کا کوہ سکوت

یہ خواب خواب سا منظر یہ بے خبر ہے چراغ