Tuesday, 20 October 2026

کتنا بڑا مکان ہے چھوٹا ہے کتنا دل

 کتنا بڑا مکان ہے چھوٹا ہے کتنا دل

دولت کی ریل پیل ہے کھوٹا ہے کتنا دل

کیسی یہ چُپ لگی ہے قیامت کے شور میں

دُنیا کے اس ہجوم میں تنہا ہے کتنا دل

کچھ اس طرح ملال کے بادل گُزر گئے

اشکوں کی برشگال میں بھیگا ہے کتنا دل

تُو نے تو کتنے قُرب کے قلزم عطا کیے

پھر بھی تِری وصال کا پیاسا ہے کتنا دل

آتش نژاد ہجر میں کتنے جلے ہیں خواب

بحرِ فراقِ یار میں ڈُوبا ہے کتنا دل

ترکِ تعلقات پہ یہ کیا ہُوا عظیم

چھوٹی سی ایک بات پہ رویا ہے کتنا دل


احمد عظیم صدیقی

No comments:

Post a Comment