کتنا بڑا مکان ہے چھوٹا ہے کتنا دل
دولت کی ریل پیل ہے کھوٹا ہے کتنا دل
کیسی یہ چُپ لگی ہے قیامت کے شور میں
دُنیا کے اس ہجوم میں تنہا ہے کتنا دل
کچھ اس طرح ملال کے بادل گُزر گئے
اشکوں کی برشگال میں بھیگا ہے کتنا دل
تُو نے تو کتنے قُرب کے قلزم عطا کیے
پھر بھی تِری وصال کا پیاسا ہے کتنا دل
آتش نژاد ہجر میں کتنے جلے ہیں خواب
بحرِ فراقِ یار میں ڈُوبا ہے کتنا دل
ترکِ تعلقات پہ یہ کیا ہُوا عظیم
چھوٹی سی ایک بات پہ رویا ہے کتنا دل
احمد عظیم صدیقی
No comments:
Post a Comment