جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا
اک شخص دل کی کوٹھڑی میں یوں مکیں رہا
ہنسنے کا مشورہ بھی تِرا خوب ہے، مگر
مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا
چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ
ایسا بھی کوئی شخص مِرا ہم نشیں رہا
جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا
اک شخص دل کی کوٹھڑی میں یوں مکیں رہا
ہنسنے کا مشورہ بھی تِرا خوب ہے، مگر
مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا
چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ
ایسا بھی کوئی شخص مِرا ہم نشیں رہا
جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا
اک شخص دل کی کوٹھڑی میں یوں مکیں رہا
ہنسنے کا مشورہ بھی تِرا خوب ہے، مگر
مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا
چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ
ایسا بھی کوئی شخص مِرا ہم نشیں رہا
بچہ ہے جو اک مجھ میں وہ ہنسنے پہ بضد ہے
سنجیدہ مزاجی کو بدلنے پہ بضد ہے
صحرا کی مسافت سے تھکاوٹ بھی ہے لیکن
اور دل کہ ابھی خاک اڑانے پہ بضد ہے
اس ریشمی لڑکی کی اداؤں کا ہے جادو
پتھر تھا مگر دل بھی پگھلنے پہ بضد ہے
ہم اپنے واسطے نیا جہان دیکھتے رہے
زمین چھوڑ کر ہم آسمان دیکھتے رہے
ہمارے ساتھ اجنبی تھا اک سفر میں دوستا
کہ جب چلا گیا وہ ہم نشان دیکھتے رہے
یہ علم تھا کہ جھوٹ ہے مگر وہ شخص کیا کہیں
یوں بولتا رہا کہ ہم رسان دیکھتے رہے
عجب تکرار کرنے لگ گئے تھے
حدیں سب پار کرنے لگ گئے تھے
جڑوں سے کاٹ کے پیڑوں کو ہم بھی
زمیں ہموار کرنے لگ گئے تھے
ہمیں سے سیکھ کر داؤ ہمارے
ہمیں پر وار کرنے لگ گئے تھے
کسی کے ہجر کو لفظوں میں جگہ دیتا ہوں
ہر نئی بات میں شعروں میں سنا دیتا ہوں
دل کو دیتا ہوں میں ہر روز نئے خواب کئی
زمیں بنجر میں کئی بیج گرا دیتا ہوں
میرے ہرجائی کی ہی دین ہیں آنسو میرے
آنکھ نم ہو تو اسے دل سے دعا دیتا ہوں
جو بجھ گئیں تھیں وہ شمعیں جلا رہے ہیں ہم
نیا ہے درد، نئی سر لگا رہے ہیں ہم
یہ دیکھتے ہو لبوں پر یہ مسکراتی ہنسی
بچھڑتے وقت اداسی چھپا رہے ہیں ہم
کسی کے سامنے الفت کا بس بھرم رکھ کر
نہیں ہے شوق، مگر مسکرا رہے ہیں ہم
آنکھ سے اشک بہاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
میں ترا سوگ مناتے ہوئے تھک جاتا ہوں
وصل کے خواب سجاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
میں تِرا ہجر نبھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
پورے بنتے ہی نہیں مجھ سے خد و خال تِرے
صرف رخسار بناتے ہوئے تھک جاتا ہوں
ہم ایسے پیڑوں پہ بس خزاؤں کا چل رہا ہے
تبھی تو پتوں کا رنگ زردی میں ڈھل رہا ہے
ہماری آنکھیں ہیں مردہ خوابوں کی مرقدیں اور
ہمارا دل بھی کہ جیسے ویران تھل رہا ہے
کسی کی یادوں کے آسرے پر چراغ دل کا
اندھیری راتوں میں آہ و زاری سے جل رہا ہے
کچھ غم خرید کر لیے خوشیوں کو بیچ کر
صدیوں کا بوجھ لے لیا لمحوں کو بیچ کر
کیا پوچھتے ہو زندگی کی واردات کا
میں دن گزار لیتا ہوں ہفتوں کو بیچ کر
اے ربِ ذوالجلال! تِری کائنات میں
ہم نے کِیا ہے عشق بھی جذبوں کو بیچ کر