Showing posts with label جمیل احمد قیس. Show all posts
Showing posts with label جمیل احمد قیس. Show all posts

Tuesday, 14 February 2023

جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا

 جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا

اک شخص دل کی کوٹھڑی میں یوں مکیں رہا

ہنسنے کا مشورہ بھی تِرا خوب ہے، مگر

مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا

چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ

ایسا بھی کوئی شخص مِرا ہم نشیں رہا

Sunday, 10 July 2022

جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا

 جب تک وہ میرے ساتھ تھا میں بھی حسیں رہا

اک شخص دل کی کوٹھڑی میں یوں مکیں رہا

ہنسنے کا مشورہ بھی تِرا خوب ہے، مگر

مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا

چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ

ایسا بھی کوئی شخص مِرا ہم نشیں رہا

Wednesday, 16 February 2022

بچہ ہے جو اک مجھ میں وہ ہنسنے پہ بضد ہے

 بچہ ہے جو اک مجھ میں وہ ہنسنے پہ بضد ہے

سنجیدہ مزاجی کو بدلنے پہ بضد ہے

صحرا کی مسافت سے تھکاوٹ بھی ہے لیکن

اور دل کہ ابھی خاک اڑانے پہ بضد ہے

اس ریشمی لڑکی کی اداؤں کا ہے جادو

پتھر تھا مگر دل بھی پگھلنے پہ بضد ہے

Friday, 22 October 2021

ہم اپنے واسطے نیا جہان دیکھتے رہے

 ہم اپنے واسطے نیا جہان دیکھتے رہے

زمین چھوڑ کر ہم آسمان دیکھتے رہے

ہمارے ساتھ اجنبی تھا اک سفر میں دوستا

کہ جب چلا گیا وہ ہم نشان دیکھتے رہے

یہ علم تھا کہ جھوٹ ہے مگر وہ شخص کیا کہیں

یوں بولتا رہا کہ ہم رسان دیکھتے رہے

Saturday, 16 October 2021

عجب تکرار کرنے لگ گئے تھے

 عجب تکرار کرنے لگ گئے تھے 

حدیں سب پار کرنے لگ گئے تھے 

جڑوں سے کاٹ کے پیڑوں کو ہم بھی 

زمیں ہموار کرنے لگ گئے تھے 

ہمیں سے سیکھ کر داؤ ہمارے

ہمیں پر وار کرنے لگ گئے تھے

Wednesday, 13 October 2021

کسی کے ہجر کو لفظوں میں جگہ دیتا ہوں

 کسی کے ہجر کو لفظوں میں جگہ دیتا ہوں

ہر نئی بات میں شعروں میں سنا دیتا ہوں

دل کو دیتا ہوں میں ہر روز نئے خواب کئی

زمیں بنجر میں کئی بیج گرا دیتا ہوں

میرے ہرجائی کی ہی دین ہیں آنسو میرے

آنکھ نم ہو تو اسے دل سے دعا دیتا ہوں

جو بجھ گئیں تھیں وہ شمعیں جلا رہے ہیں ہم

 جو بجھ گئیں تھیں وہ شمعیں جلا رہے ہیں ہم

نیا ہے درد، نئی سر لگا رہے ہیں ہم

یہ دیکھتے ہو لبوں پر یہ مسکراتی ہنسی

بچھڑتے وقت اداسی چھپا رہے ہیں ہم

کسی کے سامنے الفت کا بس بھرم رکھ کر

نہیں ہے شوق، مگر مسکرا رہے ہیں ہم

Tuesday, 12 October 2021

آنکھ سے اشک بہاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

 آنکھ سے اشک بہاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

میں ترا سوگ مناتے ہوئے تھک جاتا ہوں

وصل کے خواب سجاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

میں تِرا ہجر نبھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

پورے بنتے ہی نہیں مجھ سے خد و خال تِرے

صرف رخسار بناتے ہوئے تھک جاتا ہوں

Monday, 11 October 2021

ہم ایسے پیڑوں پہ بس خزاؤں کا چل رہا ہے

 ہم ایسے پیڑوں پہ بس خزاؤں کا چل رہا ہے

تبھی تو پتوں کا رنگ زردی میں ڈھل رہا ہے

ہماری آنکھیں ہیں مردہ خوابوں کی مرقدیں اور

ہمارا دل بھی کہ جیسے ویران تھل رہا ہے

کسی کی یادوں کے آسرے پر چراغ دل کا

اندھیری راتوں میں آہ و زاری سے جل رہا ہے

Friday, 24 September 2021

کچھ غم خرید کر لیے خوشیوں کو بیچ کر

کچھ غم خرید کر لیے خوشیوں کو بیچ کر

صدیوں کا بوجھ لے لیا لمحوں کو بیچ کر

کیا پوچھتے ہو زندگی کی واردات کا

میں دن گزار لیتا ہوں ہفتوں کو بیچ کر

اے ربِ ذوالجلال! تِری کائنات میں

ہم نے کِیا ہے عشق بھی جذبوں کو بیچ کر