Saturday, 16 October 2021

عجب تکرار کرنے لگ گئے تھے

 عجب تکرار کرنے لگ گئے تھے 

حدیں سب پار کرنے لگ گئے تھے 

جڑوں سے کاٹ کے پیڑوں کو ہم بھی 

زمیں ہموار کرنے لگ گئے تھے 

ہمیں سے سیکھ کر داؤ ہمارے

ہمیں پر وار کرنے لگ گئے تھے

جنہیں دل میں بسائے تھے کبھی ہم 

وہ دل مسمار کرنے لگ گئے تھے

نہ تھے نفرت کے بھی قابل ہماری

جنہیں ہم پیار کرنے لگ گئے تھے


جمیل احمد قیس

No comments:

Post a Comment