عجب تکرار کرنے لگ گئے تھے
حدیں سب پار کرنے لگ گئے تھے
جڑوں سے کاٹ کے پیڑوں کو ہم بھی
زمیں ہموار کرنے لگ گئے تھے
ہمیں سے سیکھ کر داؤ ہمارے
ہمیں پر وار کرنے لگ گئے تھے
جنہیں دل میں بسائے تھے کبھی ہم
وہ دل مسمار کرنے لگ گئے تھے
نہ تھے نفرت کے بھی قابل ہماری
جنہیں ہم پیار کرنے لگ گئے تھے
جمیل احمد قیس
No comments:
Post a Comment