لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے
دل فسُردہ ہو تو خود آنکھ کا نم بولتا ہے
اس کے لہجے سے جھلکتی ہے کہانی اس کی
اس کے چہرے پہ لکھا جور و ستم بولتا ہے
وہ تو حیرت سے نکلنے نہیں پاتا پل بھر
ساتھ چلتا ہے تو ہر ایک قدم بولتا ہے
لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے
دل فسُردہ ہو تو خود آنکھ کا نم بولتا ہے
اس کے لہجے سے جھلکتی ہے کہانی اس کی
اس کے چہرے پہ لکھا جور و ستم بولتا ہے
وہ تو حیرت سے نکلنے نہیں پاتا پل بھر
ساتھ چلتا ہے تو ہر ایک قدم بولتا ہے
نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ہوں
کبھی بھیڑ میں اپنا وجود تلاش کرتا ہوں
پھر اسی بھیڑ میں خود سے چھپ جاتا ہوں
غوغائے بزم حیات میں جب اپنی آواز سنتا ہوں
تو سوچتا ہوں کہ یہ میں ہوں یا کوئی اور ہے
پھر اسی شور میں گم ہو جاتا ہوں
میں ہوں خود سر تو طلبگار انا تم بھی ہو
میں بھی ہوں مشکل میں سر دار انا تم بھی ہو
میری کوشش ہے کہ میں کچھ بھی نہ اظہار کروں
مجھ کو معلوم گرفتار انا تم بھی ہو
مجھ کو یہ خبط ترا درد چھپائے رکھوں
مجھ کو یہ علم کہ بیمار انا تم بھی ہو
اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے
پوچھتا ہے دل مجھ سے کس طرف کو جانا ہے
میرے گھر وہ آئے گا آج گھر سجانا ہے
اس طرف کی چیزوں کو اس طرف لگانا ہے
نقش ہائے رنگیں کا اک نگار خانہ ہے
زندگی حقیقت ہے، زندگی فسانہ ہے
کہیں گُم ہوا تیری کھوج میں
میں گِرہ میں باندھ کے حادثات، نکل پڑا تیری کھوج میں
کہیں تارکول کی تھی سڑک، جہاں آگ بانٹتی دھوپ تھی
کبھی کچی راہ کی دھول میں جہاں سانس لینا محال تھا
سرِ رزمِ جاں کبھی دل کے درد سے ہار کر
میں تو خانقاہوں پہ مانگتا پھِرا منتیں
کبھی رات رات بسر دعاؤں میں ہو گئی