Showing posts with label شفیق احمد. Show all posts
Showing posts with label شفیق احمد. Show all posts

Friday, 2 December 2022

لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے

 لاکھ خاموش رہوں پھر بھی یہ غم بولتا ہے

دل فسُردہ ہو تو خود آنکھ کا نم بولتا ہے

اس کے لہجے سے جھلکتی ہے کہانی اس کی

اس کے چہرے پہ لکھا جور و ستم بولتا ہے

وہ تو حیرت سے نکلنے نہیں پاتا پل بھر

ساتھ چلتا ہے تو ہر ایک قدم بولتا ہے

Friday, 11 March 2022

نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ہوں

 نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ہوں

کبھی بھیڑ میں اپنا وجود تلاش کرتا ہوں

پھر اسی بھیڑ میں خود سے چھپ جاتا ہوں

غوغائے بزم حیات میں جب اپنی آواز سنتا ہوں

تو سوچتا ہوں کہ یہ میں ہوں یا کوئی اور ہے

پھر اسی شور میں گم ہو جاتا ہوں

Sunday, 16 January 2022

میں ہوں خود سر تو طلبگار انا تم بھی ہو

 میں ہوں خود سر تو طلبگار انا تم بھی ہو

میں بھی ہوں مشکل میں سر دار انا تم بھی ہو

میری کوشش ہے کہ میں کچھ بھی نہ اظہار کروں

مجھ کو معلوم گرفتار انا تم بھی ہو

مجھ کو یہ خبط ترا درد چھپائے رکھوں

مجھ کو یہ علم کہ بیمار انا تم بھی ہو

Friday, 14 January 2022

اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے

 اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے

پوچھتا ہے دل مجھ سے کس طرف کو جانا ہے

میرے گھر وہ آئے گا آج گھر سجانا ہے

اس طرف کی چیزوں کو اس طرف لگانا ہے

نقش ہائے رنگیں کا اک نگار خانہ ہے

زندگی حقیقت ہے، زندگی فسانہ ہے

Wednesday, 5 May 2021

کہیں گم ہوا تیری کھوج میں میں گرہ میں باندھ کے حادثات

 کہیں گُم ہوا تیری کھوج میں


میں گِرہ میں باندھ کے حادثات، نکل پڑا تیری کھوج میں

کہیں تارکول کی تھی سڑک، جہاں آگ بانٹتی دھوپ تھی

کبھی کچی راہ کی دھول میں جہاں سانس لینا محال تھا

سرِ رزمِ جاں کبھی دل کے درد سے ہار کر

میں تو خانقاہوں پہ مانگتا پھِرا منتیں

کبھی رات رات بسر دعاؤں میں ہو گئی