نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ہوں
کبھی بھیڑ میں اپنا وجود تلاش کرتا ہوں
پھر اسی بھیڑ میں خود سے چھپ جاتا ہوں
غوغائے بزم حیات میں جب اپنی آواز سنتا ہوں
تو سوچتا ہوں کہ یہ میں ہوں یا کوئی اور ہے
پھر اسی شور میں گم ہو جاتا ہوں
جب کبھی فلک پہ خواب ستارے دیکھتا ہوں
تو ٹوٹے خوابوں کی چبھن سے کراہنے لگتا ہوں
پھر جی چاہتا ہے کہ بھاگ جاؤں
کہیں دور
جہاں دور دور تک
خواب ستارے نہ ہوں
یادیں نہ ہوں
ان کہی باتیں نہ ہوں
اور
میں نہ ہوں
شفیق احمد
No comments:
Post a Comment