Friday, 11 March 2022

نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ہوں

 نہ جانے کب سے میں خود کی تلاش میں ہوں

کبھی بھیڑ میں اپنا وجود تلاش کرتا ہوں

پھر اسی بھیڑ میں خود سے چھپ جاتا ہوں

غوغائے بزم حیات میں جب اپنی آواز سنتا ہوں

تو سوچتا ہوں کہ یہ میں ہوں یا کوئی اور ہے

پھر اسی شور میں گم ہو جاتا ہوں

جب کبھی فلک پہ خواب ستارے دیکھتا ہوں

تو ٹوٹے خوابوں کی چبھن سے کراہنے لگتا ہوں

پھر جی چاہتا ہے کہ بھاگ جاؤں

کہیں دور

جہاں دور دور تک

خواب ستارے نہ ہوں

یادیں نہ ہوں

ان کہی باتیں نہ ہوں

اور

میں نہ ہوں


شفیق احمد

No comments:

Post a Comment