گاؤں سب نقل مکانی کی طرف دیکھتا تھا
اور میں پیاسا تھا پانی کی طرف دیکھتا تھا
اس کی انگلی میں کوئی اجنبی انگوٹھی تھی
اور میں اس کی نشانی کی طرف دیکھتا تھا
صلح کر لی ہے عدو ملک سے آخر شہ نے
سپہ سالار جو رانی کی طرف دیکھتا تھا
گاؤں سب نقل مکانی کی طرف دیکھتا تھا
اور میں پیاسا تھا پانی کی طرف دیکھتا تھا
اس کی انگلی میں کوئی اجنبی انگوٹھی تھی
اور میں اس کی نشانی کی طرف دیکھتا تھا
صلح کر لی ہے عدو ملک سے آخر شہ نے
سپہ سالار جو رانی کی طرف دیکھتا تھا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ کیا کہ درد کو ہی روح میں بسا لیجیے
ملے مدینے کی خاکِ شفا تو کھا لیجیے
حضورؐ میں بھی ہنر ور ہوں، شعر کہتا ہوں
حضورؐ مجھ سے بھی اک نعت کہلوا لیجیے
فرشتے دوڑ کے آئیں گے ہمنوائی کو
بس ایک بار ذرا نعت گنگنا لیجیے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
شکستہ رابطوں کو راستی کا حکم ملے
درِ حبیبﷺ سے وابستگی کا حکم ملے
سوائے آنکھوں کے تم مت کہیں نظر آنا
اے اضطراب! اگر حاضری کا حکم ملے
مِرا تو پُشتوں سے اس فن میں تجربہ بھی ہے
حضورؐ آپ کے ہاں چاکری کا حکم ملے
سمے کے ہاتھ لگ جائیں تو سپنے ٹوٹ جاتے ہیں
زیادہ دیر رکھنے سے بھروسے ٹوٹ جاتے ہیں
کہاں تک روک سکتی ہیں کسی انسان کی پلکیں
کہ پانی زور پر آئے تو پشتے ٹوٹ جاتے ہیں
میں خود جاں کے پھپھولے تازہ رکھنے کی سعی میں ہوں
سنا ہے زخم بھر جائیں تو وعدے ٹوٹ جاتے ہیں
ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں
حوصلہ ٹُوٹا تو احباب کی چیخیں نکلیں
وحشتیں ایسی الم ناک نتائج میں ملیں
جن کے امکان پہ اسباب کی چیخیں نکلیں
اس سے فرعون کے اخلاق نے مانگی ہے پناہ
اس سے شداد کے آداب کی چیخیں نکلیں
بقدرِ گریہ ہیں محروم ہونے والے دُکھ
نہ حسبِ ضبط ہیں مقسوم ہونے والے دکھ
خلائے یاد میں تارے سے جھلملاتے ہیں
زمینِ درد سے معدوم ہونے والے دکھ
مِرے دکھوں کی رقاقت پہ مسکراتے ہیں
تمہارے حال سے معلوم ہونے والے دکھ
لے چلے ہو تو کہیں دُور ہی لے جانا مجھے
مت کسی بِسری ہوئی یاد سے ٹکرانا مجھے
میں تو اس میں بھی بہت خوش ہوں تِرا نام تو ہے
ایک جُرعہ بھی تِرے نام کا مے خانہ مجھے
آج دانستہ تغافل سے ہوں ہارا ہوا میں
کل تلک عمر کی سچائی تھی افسانہ مجھے
ہر راحتِ جاں لمحے سے اُفتاد کی ضِد ہے
بے داد زمانہ بھی کسی داد کی ضد ہے
ہر خیر کسی شر سے بقاء یاب ہوئی ہے
یہ حسنِ تعادل بھی تو اضداد کی ضد ہے
اب آنکھیں بھلا کس طرح تقسیم کرے ماں
دیواریں کھڑی کرنا تو اولاد کی ضد ہے
خود ہی رستے میں چُن کے خار مِرے
اب نہ کر آبلے شمار مرے
اپنے کاجل کے ایک نقطے سے
بیٹھ کے زائچے سنوار مرے
ہے محبت کو ہجر بھی درکار
اے حبیبِ وفا شعار مرے