Showing posts with label اکرام اعظم. Show all posts
Showing posts with label اکرام اعظم. Show all posts

Friday, 19 May 2023

گاؤں سب نقل مکانی کی طرف دیکھتا تھا

 گاؤں سب نقل مکانی کی طرف دیکھتا تھا

اور میں پیاسا تھا پانی کی طرف دیکھتا تھا

اس کی انگلی میں کوئی اجنبی انگوٹھی تھی

اور میں اس کی نشانی کی طرف دیکھتا تھا

صلح کر لی ہے عدو ملک سے آخر شہ نے

سپہ سالار جو رانی کی طرف دیکھتا تھا

Friday, 12 August 2022

یہ کیا کہ درد کو ہی روح میں بسا لیجیے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ کیا کہ درد کو ہی روح میں بسا لیجیے

ملے مدینے کی خاکِ شفا تو کھا لیجیے

حضورؐ میں بھی ہنر ور ہوں، شعر کہتا ہوں 

حضورؐ مجھ سے بھی اک نعت کہلوا لیجیے

فرشتے دوڑ کے آئیں گے ہمنوائی کو 

بس ایک بار ذرا نعت گنگنا لیجیے

Friday, 27 August 2021

شکستہ رابطوں کو راستی کا حکم ملے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


شکستہ رابطوں کو راستی کا حکم ملے

درِ حبیبﷺ سے وابستگی کا حکم ملے

سوائے آنکھوں کے تم مت کہیں نظر آنا

اے اضطراب! اگر حاضری کا حکم ملے

مِرا تو پُشتوں سے اس فن میں تجربہ بھی ہے

حضورؐ آپ کے ہاں چاکری کا حکم ملے

Wednesday, 28 July 2021

سمے کے ہاتھ لگ جائیں تو سپنے ٹوٹ جاتے ہیں

 سمے کے ہاتھ لگ جائیں تو سپنے ٹوٹ جاتے ہیں

زیادہ دیر رکھنے سے بھروسے ٹوٹ جاتے ہیں

کہاں تک روک سکتی ہیں کسی انسان کی پلکیں

کہ پانی زور پر آئے تو پشتے ٹوٹ جاتے ہیں

میں خود جاں کے پھپھولے تازہ رکھنے کی سعی میں ہوں

سنا ہے زخم بھر جائیں تو وعدے ٹوٹ جاتے ہیں

Sunday, 25 April 2021

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں

 ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں

حوصلہ ٹُوٹا تو احباب کی چیخیں نکلیں

وحشتیں ایسی الم ناک نتائج میں ملیں

جن کے امکان پہ اسباب کی چیخیں نکلیں

اس سے فرعون کے اخلاق نے مانگی ہے پناہ

اس سے شداد کے آداب کی چیخیں نکلیں

Tuesday, 6 April 2021

بقدر گریہ ہیں محروم ہونے والے دکھ

 بقدرِ گریہ ہیں محروم ہونے والے دُکھ

نہ حسبِ ضبط ہیں مقسوم ہونے والے دکھ

خلائے یاد میں تارے سے جھلملاتے ہیں

زمینِ درد سے معدوم ہونے والے دکھ

مِرے دکھوں کی رقاقت پہ مسکراتے ہیں

تمہارے حال سے معلوم ہونے والے دکھ

Saturday, 3 April 2021

لے چلے ہو تو کہیں دور ہی لے جانا مجھے

 لے چلے ہو تو کہیں دُور ہی لے جانا مجھے

مت کسی بِسری ہوئی یاد سے ٹکرانا مجھے

میں تو اس میں بھی بہت خوش ہوں تِرا نام تو ہے

ایک جُرعہ بھی تِرے نام کا مے خانہ مجھے

آج دانستہ تغافل سے ہوں ہارا ہوا میں

کل تلک عمر کی سچائی تھی افسانہ مجھے

ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے

 ہر راحتِ جاں لمحے سے اُفتاد کی ضِد ہے

بے داد زمانہ بھی کسی داد کی ضد ہے

ہر خیر کسی شر سے بقاء یاب ہوئی ہے

یہ حسنِ تعادل بھی تو اضداد کی ضد ہے

اب آنکھیں بھلا کس طرح تقسیم کرے ماں

دیواریں کھڑی کرنا تو اولاد کی ضد ہے

خود ہی رستے میں چن کے خار مرے

 خود ہی رستے میں چُن کے خار مِرے

اب نہ کر آبلے شمار مرے

اپنے کاجل کے ایک نقطے سے

بیٹھ کے زائچے سنوار مرے

ہے محبت کو ہجر بھی درکار

اے حبیبِ وفا شعار مرے