بقدرِ گریہ ہیں محروم ہونے والے دُکھ
نہ حسبِ ضبط ہیں مقسوم ہونے والے دکھ
خلائے یاد میں تارے سے جھلملاتے ہیں
زمینِ درد سے معدوم ہونے والے دکھ
مِرے دکھوں کی رقاقت پہ مسکراتے ہیں
تمہارے حال سے معلوم ہونے والے دکھ
جو انتشارِ تخیل سے مر گئے وہ الگ
بہت قلیل ہیں منظوم ہونے والے دکھ
تمہارا پوچھتے ہیں اے مِرے مسیحا نفس
مِری جبین پہ مرقوم ہونے والے دکھ
سخی کے دستِ عطا میں ہی کسمساتے ہیں
مجالِ ظرف پہ مغموم ہونے والے دکھ
مِری تو روح کے بھی ہونٹ کر گئے نیلے
تِری تسلی سے مسموم ہونے والے دکھ
اکرام اعظم
No comments:
Post a Comment