باز آئے اس مذاقِ غمِ عاشقی سے ہم
خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم
کچھ اس ادا سے ہو گئی بے گانہ وہ نظر
شکوہ بھی کر سکے نہ کسی کا کسی سے ہم
یہ شانِ دلبری ہے کہ اندازِ احتیاط
گویا نگاہِ حُسن میں ہیں اجنبی سے ہم
باز آئے اس مذاقِ غمِ عاشقی سے ہم
خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم
کچھ اس ادا سے ہو گئی بے گانہ وہ نظر
شکوہ بھی کر سکے نہ کسی کا کسی سے ہم
یہ شانِ دلبری ہے کہ اندازِ احتیاط
گویا نگاہِ حُسن میں ہیں اجنبی سے ہم
ملا نہ دیر و حرم میں کہیں نشاں ان کا
حد نگاہ سے باہر ہے آستاں ان کا
نگاہ ملتے ہی ہم دل پکڑ کے بیٹھ گئے
لگا جو تیر نظر آ کے ناگہاں ان کا
کیے ہیں راہ وفا میں وہیں وہیں سجدے
ملا ہے نقش کف پا جہاں جہاں ان کا
صبحِ عشرت زندگی کی شام ہو کر رہ گئی
حسرتِ دل موت کا پیغام ہو کر رہ گئی
تم نے دنیا کو لُٹا دیں نعمتیں، اچھا کِیا
میری دنیا بس تمہارا نام ہو کر رہ گئی
جس سحر کی ہم نے مانگی تھی اسیری میں دُعا
وہ سحر آئی تو لیکن شام ہو کر رہ گئی
کر کے مسحور مجھے چشم کرم سے پہلے
کر دیا مہر بہ لب اس نے ستم سے پہلے
اک ہمیں کو نہیں ناکامئ قسمت کا گِلہ
نامراد اور بھی کچھ گزرے ہیں ہم سے پہلے
میں خطا وار ہوں لیکن مِری تقصیر معاف
آہ کب منہ سے نکلنی ہے ستم سے پہلے