Showing posts with label سیف بجنوری. Show all posts
Showing posts with label سیف بجنوری. Show all posts

Saturday, 24 January 2026

خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم

 باز آئے اس مذاقِ غمِ عاشقی سے ہم

خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم

کچھ اس ادا سے ہو گئی بے گانہ وہ نظر

شکوہ بھی کر سکے نہ کسی کا کسی سے ہم

یہ شانِ دلبری ہے کہ اندازِ احتیاط

گویا نگاہِ حُسن میں ہیں اجنبی سے ہم

Thursday, 8 May 2025

ملا نہ دیر و حرم میں کہیں نشاں ان کا

 ملا نہ دیر و حرم میں کہیں نشاں ان کا

حد نگاہ سے باہر ہے آستاں ان کا

نگاہ ملتے ہی ہم دل پکڑ کے بیٹھ گئے

لگا جو تیر نظر آ کے ناگہاں ان کا

کیے ہیں راہ وفا میں وہیں وہیں سجدے

ملا ہے نقش کف پا جہاں جہاں ان کا

Monday, 12 February 2024

صبح عشرت زندگی کی شام ہو کر رہ گئی

صبحِ عشرت زندگی کی شام ہو کر رہ گئی

حسرتِ دل موت کا پیغام ہو کر رہ گئی

تم نے دنیا کو لُٹا دیں نعمتیں، اچھا کِیا

میری دنیا بس تمہارا نام ہو کر رہ گئی

جس سحر کی ہم نے مانگی تھی اسیری میں دُعا

وہ سحر آئی تو لیکن شام ہو کر رہ گئی

Wednesday, 28 April 2021

کر کے مسحور مجھے چشم کرم سے پہلے

کر کے مسحور مجھے چشم کرم سے پہلے

کر دیا مہر بہ لب اس نے ستم سے پہلے

اک ہمیں کو نہیں ناکامئ قسمت کا گِلہ

نامراد اور بھی کچھ گزرے ہیں ہم سے پہلے

میں خطا‌ وار ہوں لیکن مِری تقصیر معاف

آہ کب منہ سے نکلنی ہے ستم سے پہلے