ہر نفس منت کشِ آلام ہے
زندگی شاید اسی کا نام ہے
ایک آنسو اور وہ بھی صرف ضبط
کیا یہی امید کا انجام ہے
سرگزشتِ عشق افسانہ نہیں
زینتِ عنوان تیرا نام ہے
ہر نفس منت کشِ آلام ہے
زندگی شاید اسی کا نام ہے
ایک آنسو اور وہ بھی صرف ضبط
کیا یہی امید کا انجام ہے
سرگزشتِ عشق افسانہ نہیں
زینتِ عنوان تیرا نام ہے
یہ ستم اک خواہشِ موہوم پر
لطف فرما خاطرِ مغموم پر
اے مسرت! میرے غم خانے سے دور
یہ گِرانی اور مِرے مقسوم پر
پُرسشِ حالات غم سے درگزر
رحم فرما اب دلِ مرحوم پر
آہ اے سودائے خامِ آرزو
تا بہ کے آخر نظامِ آرزو
ضبط آہ دل شکن اور میں حزیں
کر رہا ہوں احترامِ آرزو
ہوشیار، اے انفعالِ کیف زا
حُسن تک پہنچا پیامِ آرزو
موت اس بیکس کی غایت ہی سہی
عمر بھر جس نے مصیبت ہی سہی
حسن کا انجام دیکھیں اہل حسن
عشق میرا بے حقیقت ہی سہی
زندگی ہے چشمِ عبرت میں ابھی
کچھ نہیں تو عیش و عشرت ہی سہی
کیا کہوں جذبات کا طوفان کتنا تیز ہے
دل بہ حدِ بے خودی احساس سے لبریز ہے
عشق کی دنیا میں ہر تکلیف راحت خیز ہے
اضطرابِ دل بھی اک حد تک سکوں آمیز ہے
دیدنی ہے اب شکست ضبط کی بے چارگی
مسکراتا ہوں مگر دل درد سے لبریز ہے