Sunday, 11 September 2022

عشق میرا بے حقیقت ہی سہی

 موت اس بیکس کی غایت ہی سہی

عمر بھر جس نے مصیبت ہی سہی

حسن کا انجام دیکھیں اہل حسن

عشق میرا بے حقیقت ہی سہی

زندگی ہے چشمِ عبرت میں ابھی

کچھ نہیں تو عیش و عشرت ہی سہی

دیکھ لیتا ہوں تبسّم حُسن کا

غم پرستی میری فطرت ہی سہی

پردہ دار سادگی ہے ہر ادا

یہ تصنّع بے ضرورت ہی سہی

درپئے آزار ہے قسمت، تو ہو

اب مجھے تم سے محبت ہی سہی

جورِ بے جا کی تلافی کچھ تو کر

خیر، اظہارِ ندامت ہی سہی

اے اجل کچھ زندگی کا حق بھی ہے

زندگی تیری امانت ہی سہی

کیا کروں اکبر دلی جذبات کو

اس تغزّل میں قدامت ہی سہی


اکبر حیدری کشمیری

No comments:

Post a Comment