سائیاں! عشق کا آزار مکمل کر دے
تُو مِری راہ کی دیوار مکمل کر دے
کوئی آسانی نہیں چاہتا ہوں میں تجھ سے
ایسا کر، زندگی دُشوار مکمل کر دے
دستیابی کو مِرے ہاتھ ترس جاتے ہیں
تُو مِرے شہر کا بازار مکمل کر دے
سائیاں! عشق کا آزار مکمل کر دے
تُو مِری راہ کی دیوار مکمل کر دے
کوئی آسانی نہیں چاہتا ہوں میں تجھ سے
ایسا کر، زندگی دُشوار مکمل کر دے
دستیابی کو مِرے ہاتھ ترس جاتے ہیں
تُو مِرے شہر کا بازار مکمل کر دے
پُکارتی ہے مِرا نام اندریں کوئی شے
اُلٹ کے دیکھ لیا خود کو پر نہیں کوئی شے
تجھے خلوص کے دو گُھونٹ تک نہیں ملنے
کہیں بھی جا، تُو فقط ہے مِرے تئیں کوئی شے
بچھڑ گئے مِرے سب یار کشتیوں والے
نِگل گئی ہے انہیں کیا سمندریں کوئی شے
گریز کیجیے مت، دل دُکھائیے صاحب
ہمیں نہ در سے جھِڑک کر اٹھائیے صاحب
ابھی نہ کیجیے بیدار، ابھی تو سوئے ہیں
ابھی نہ سوئے ہوؤں کو جگائیے صاحب
ابھی ابھی مِرے قدموں میں سانپ تھا کوئی
دعا نہ کیجیۓ،۔ پانی پلائیے صاحب
ہے میری ناؤ جسے بادباں میسر ہے
سبھی کو ایسی سہولت کہاں میسر ہے
درست ہے کہ میں ہجرت سے پہلے بے گھر تھا
نصیب دیکھ، مجھے اب مکاں میسر ہے
میں جانتا ہوں مجھے نیند آنے والی ہے
میں جانتا ہوں کہ جائے اماں میسر ہے
میرے شہکار کو بے کار کا غم کھاتا ہے
اب میسر کو بھی درکار کا غم کھاتا ہے
نیند تنہا ہی کہیں بیٹھ کے رو لیتی ہے
اس کو اب دیدۂ بیدار کا غم کھاتا ہے
ایسا دیکھا ہے کہ دیوار پہ دیوار گِری
جیسے دیوار کو دیوار کا غم کھاتا ہے