Showing posts with label فضل عباس. Show all posts
Showing posts with label فضل عباس. Show all posts

Tuesday, 20 September 2022

سائیاں عشق کا آزار مکمل کر دے

 سائیاں! عشق کا آزار مکمل کر دے

تُو مِری راہ کی دیوار مکمل کر دے

کوئی آسانی نہیں چاہتا ہوں میں تجھ سے

ایسا کر، زندگی دُشوار مکمل کر دے

دستیابی کو مِرے ہاتھ ترس جاتے ہیں

تُو مِرے شہر کا بازار مکمل کر دے

Wednesday, 7 September 2022

پکارتی ہے مرا نام اندریں کوئی شے

 پُکارتی ہے مِرا نام اندریں کوئی شے

اُلٹ کے دیکھ لیا خود کو پر نہیں کوئی شے

تجھے خلوص کے دو گُھونٹ تک نہیں ملنے

کہیں بھی جا، تُو فقط ہے مِرے تئیں کوئی شے

بچھڑ گئے مِرے سب یار کشتیوں والے

نِگل گئی ہے انہیں کیا سمندریں کوئی شے

Thursday, 1 September 2022

گریز کیجیے مت دل دکھائیے صاحب

 گریز کیجیے مت، دل دُکھائیے صاحب

ہمیں نہ در سے جھِڑک کر اٹھائیے صاحب

ابھی نہ کیجیے بیدار، ابھی تو سوئے ہیں

ابھی نہ سوئے ہوؤں کو جگائیے صاحب

ابھی ابھی مِرے قدموں میں سانپ تھا کوئی

دعا نہ کیجیۓ،۔ پانی پلائیے صاحب

Tuesday, 30 August 2022

ہے میری ناؤ جسے بادباں میسر ہے

 ہے میری ناؤ جسے بادباں میسر ہے

سبھی کو ایسی سہولت کہاں میسر ہے

درست ہے کہ میں ہجرت سے پہلے بے گھر تھا

نصیب دیکھ، مجھے اب مکاں میسر ہے

میں جانتا ہوں مجھے نیند آنے والی ہے

میں جانتا ہوں کہ جائے اماں میسر ہے

Saturday, 18 June 2022

میرے شہکار کو بے کار کا غم کھاتا ہے

 میرے شہکار کو بے کار کا غم کھاتا ہے

اب میسر کو بھی درکار کا غم کھاتا ہے

نیند تنہا ہی کہیں بیٹھ کے رو لیتی ہے

اس کو اب دیدۂ بیدار کا غم کھاتا ہے

ایسا دیکھا ہے کہ دیوار پہ دیوار گِری

جیسے دیوار کو دیوار کا غم کھاتا ہے