Showing posts with label ذیشان صدیقی. Show all posts
Showing posts with label ذیشان صدیقی. Show all posts

Tuesday, 1 September 2020

حسیں زبان ہے اردو غضب روانی ہے

حسیں زبان ہے اردو، غضب روانی ہے
یہ حسن و عشق میں ڈوبی ہوئی جوانی ہے
کبھی کبھی ہے بانک پن گلاب کی مانند
کہیں کہیں یہ زلفِ یار کی کہانی ہے
شراب جیسا نشہ بھی کبھی چھلک جائے
کبھی یہ وعظ و نصیحت کی اک نشانی ہے

Sunday, 26 July 2020

پی کر اک گھونٹ بھی مجھ سےنہ چلا جائے گا

پی کر اک گھونٹ بھی مجھ سےنہ چلا جائے گا
لڑ کھڑا کر میں گروں گا تو مزه آئے گا
میں نے سوچا ہی نہیں تھا کبھی چاہت میں صنم
دھوکا الفت میں، میرا دل بھی کبھی کھائے گا
میرا گھر بار لٹا ہے، تیری چاہت میں حسیں
تو مٹا کر مجھے، دنیا سے نہ کچھ پائے گا

Monday, 29 June 2020

چاک اپنا ہی گریباں کر لیں

چاک اپنا ہی گریباں کر لیں
ساری دنیا کو بیاباں کر لیں
کریں کچھ ایسا، کوئی کر نہ سکے
اپنے دشمن کو اپنی جاں کر لیں
ہوئے رخسار سرخ انگارہ
ان پہ  زلفوں کو سائباں کر لیں

مشکل زیست کو آسان بنانا چاہا

مشکل زیست کو آسان بنانا چاہا
اپنے ماتھے کی لکیروں کو چھپانا چاہا
شاید ان کے ہی بدلنے سے میرے کام بنیں
لاکھ ہاتھوں کی لکیروں کو مٹانا چاہا
مجھ سے روٹھےنہ میرے چاہنے والےاک پل
میں نے کتنا ہی انہیں، دل سے ستانا چاہا

ہم کو آتا نہیں جفا کرنا

ہم کو آتا نہیں، جفا کرنا
تم سکھا دو ذرا، وفا کرنا
آج دشوار ہے زمانے میں
بھلے لوگوں سے بھی نبھا کرنا
اپنی نظروں میں آپ گر جاؤ
کبھی ایسی نہیں خطا کرنا

Saturday, 13 June 2020

دامن یار کو کانٹوں سے بچا کر رکھنا

دامنِ یار کو کانٹوں سے بچا کر رکھنا
دل میں ماتم بھی بپا ہو تو چھپا کر رکھنا
میں نے سیکھا ہے، سمندر سا ظرف دنیا میں
حالتِ زار جو دل کی ہو، دبا کر رکھنا
یہ نہ کہنا کہ تمہیں چھوڑ دیا ہے اس نے
عصمتِ عشق کو دنیا سے بچا کر رکھا

نازک ہمارے دل سے محبت کے پھول تھے

نازک ہمارے دل سے محبت کے پھول تھے
راہِ وفا میں عشق کے پیروں کی دھول تھے
روندا گیا کبھی ہمیں،۔ بھُولا گیا کبھی
ہم  اس کی دل لگی کی وہ چھوٹی سی بھول تھے
کچھ قاعدہ وفا میں تھا، نہ بے وفائی میں
تم جن پہ لڑ  رہے تھے، وہ کن کے اصول تھے

Thursday, 11 June 2020

میرا ہمدم مجھے ہی جفائیں نہ دے

میرا ہمدم مجھے ہی جفائیں نہ دے
چاہتوں میں مجھے یہ دعائیں نہ دے
لوٹ لیں چین بندوں کا یہ اے خدا
تُو حسینوں کو اتنی ادائیں نہ دے
تُو وفا شعار ہے، بے وفا تو نہیں
سن جفاؤں کے بدلے جفائیں نہ دے

سچ پہ غالب ہوا جھوٹ یارب سنو

سچ پہ غالب ہوا جھوٹ یارب سنو
پارسا وہ ہے جس نے نہ سجدہ کیا
زخم دے دے کے بھی وہ مسیحا ہوئے 
ہم گنہگار ہیں،۔۔ جو جگر کو سِیا
پارسائی ملی ساقی و رِند کو
ہم شرابی ہوئے جو نظر سے پیا

معاشی بے ثباتی کون جانے کب بدلتی ہے

معاشی بے ثباتی کون جانے کب بدلتی ہے
پرانے فریم میں تصویر جانے کب بدلتی ہے
کسی کے پاس لاکھوں، تو کسی کے گھر میں فاقہ ہے
مقدر کی یہ بے جا دَین جانے کب بدلتی ہے
اگر انسان ہے محکوم تو حاکم بھی انساں ہے
حکومت آدمی کی آدمی پر، کب بدلتی ہے