شرکت دیرینہ جب کوئی ہیں اے اجنبی
کس قدر مہمل ہیں پھر یہ آن و ایں اے اجنبی
کیسے سمجھاؤں تجھے کس واسطے میں اپنے ساتھ
لے کے آیا ہوں غزل کی اک زمیں اے اجنبی
ایک یارِ ہمزباں سے عہدِ طفلی میں مِری
کیا بتاؤں کس طرح باتیں ہوئیں اے اجنبی
کیسے ہیں تیرے صنم اور کیسے تیرے برہمن
کیا خبر کیا ہیں تِرے دنیا و دیں اے اجنبی
اِک ادھر صحرا لق و دق اور اُدھر رنگِ شفق
ہے یہی رمزِ نگاہِ دُوربیں اے جنبی
ہے یہ تیرا اپنا گھر، پھر کس لیے چہرہ تِرا
میرے چہرے سے بھی بڑھ کر ہے حزیں اے اجنبی
چل کریں کچھ باتیں چیتیں مے کدے میں بیٹھ کر
بے مزا ہے آج کل فکرِ متیں اے اجنبی
اتنی جلدی بوسۂ لب کی یہ دعوت ہے غلط
دیکھنے دے رنگِ رُخسار و جبیں اے اجنبی
لائیے بوتل تو ہووے راہبر بھی درمیاں
پینے کی صُورت یہی ہے بہتریں اے اجنبی
داؤد رہبر
No comments:
Post a Comment