Showing posts with label بشر نواز. Show all posts
Showing posts with label بشر نواز. Show all posts

Tuesday, 10 October 2023

جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

 جب کبھی ہوں گے تو ہم مائلِ غم ہی ہوں گے

ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے

ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں

تحفۂ دوست ہیں جب یہ، تو کرم ہی ہوں گے

بزمِ عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور

بس یہی ہو گا نا، کچھ اور ستم ہی ہوں گے

Tuesday, 22 November 2022

مجھے جینا نہیں آتا تجھے جینا نہیں آتا

 مجھے جینا نہیں آتا

میں جیسے درد کا موسم

گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں

دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا 

لے کے جس منظر تلک جاؤں

سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں

Saturday, 22 May 2021

عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے

 عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے

دل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہے

بہتے پانی کی طرح درد کی بھی شکل نہیں

جب بھی ملتا ہے نیا روپ ہوا کرتا ہے

میں تو بہروپ ہوں اس کا جو ہے میرے اندر

وہ کوئی اور ہے جو مجھ میں جیا کرتا ہے

Sunday, 16 May 2021

جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

 جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حُسن مکمل یاد آیا

ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا

سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھُلائے بیٹھے تھے

کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا

تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جُدا جب ہو نہ سکے

جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا پل پل یاد آیا

Wednesday, 14 April 2021

سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے

 وقت کے کٹہرے میں


سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے

اپنے جرم پہ

رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو

سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں

تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر

Thursday, 1 October 2020

بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ

 بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ

ہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگ

مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں

ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ

اک نام لوح ذہن سے مٹتا نہیں ہے کیوں

کیوں آخر اس پہ وقت چڑھاتا نہیں ہے رنگ

Wednesday, 30 September 2020

اب کی بار ملو جب مجھ سے

 ایک خواہش


اب کی بار ملو جب مجھ سے

پہلی اور بس آخری بار

ہنس کر ملنا

پیار بھری نظروں سے تکنا

ایسے ملنا

جیسے ازل سے

Tuesday, 29 September 2020

گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

 گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

میں کسی پتھر، کسی دیوار کا سایا نہیں

جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میں

مدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں، بکھرا نہیں

زندگی بپھرے ہوئے دریا کی کوئی موج ہے

اک دفعہ دیکھا جو منظر پھر کبھی دیکھا نہیں

بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصہ نکل آیا

 بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصہ نکل آیا

مِرے دکھ سے کسی آواز کا رشتہ نکل آیا

وہ سر سے پاؤں تک جیسے سلگتی شام کا منظر

یہ کس جادو کی بستی میں دل تنہا نکل آیا

جن آنکھوں کی اداسی میں بیاباں سانس لیتے ہیں

انہیں کی یاد میں نغموں کا یہ دریا نکل آیا

Thursday, 12 January 2017

چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے

چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے 
غنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئے 
ارزاں خریدی اہلِ زمانہ کی دیکھ کر
ہم آپ خود ہی اپنے خریدار ہو گئے 
وہ لوگ جن کی دشت نوردی کی دھوم تھی
مدت ہوئی کہ سنگِ درِ یار ہو گئے 

چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو

چپ چاپ سلگتا ہے دِیا، تم بھی تو دیکھو
کس درد کو کہتے ہیں وفا، تم بھی تو دیکھو
مہتاب بکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے
کچھ دور چلو، آؤ ذرا، تم بھی تو دیکھو
کس طرح کناروں کو ہے سینے سے لگائے
ٹھہرے ہوئے پانی کی ادا تم بھی تو دیکھو

اس شہر کی گلیوں میں چرچے ہیں مرے دل کے

اس شہر کی گلیوں میں چرچے ہیں مِرے دل کے
افسانہ در افسانہ قصے ہیں مرے دل کے
کس درد کے چہرے سے الٹوں میں نقاب آخر
ہر درد سےانجانے رشتے ہیں مرے دل کے
بھٹکے ہوئے خوابوں کو ڈھونڈوں تو کہاں ڈھونڈوں
رستے تو کئی دن سے سُونے ہیں مرے دل کے

Tuesday, 10 January 2017

ہر قدم پر نارسائی کا تماشا کیجئے

ہر قدم پر نارسائی کا تماشا کیجئے
کب تک آخر ایک پرچھائیں کا پیچھا کیجئے
پاس آتے ہیں بدل جاتے ہیں چہروں کے نقوش
دور سے ان چاند کے ٹکڑوں کو دیکھا کیجئے
مان کر چلیے کہ وہ ہے پارسا بھی نیک بھی
پارسائی کیا ہے، کیا نیکی نہ سوچا کیجئے

ربط ہر بزم سے ٹوٹے تیری محفل کے سوا

ربط ہر بزم سے ٹوٹے تیری محفل کے سوا
رنجشیں سب کی گوارا ہیں تیرے دل کے سوا
صرف آواز سے پہچان لیں ہم تو ان کو
یہ کھنک اور کہاں، لہجۂ قاتل کے سوا
ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو
چین ملتا ہے کہاں موج کو ساحل کے سوا

برف سورج میں سمندر میں بیاباں دیکھا

برف سورج میں سمندر میں بیاباں دیکھا
رات کو ہم نے عجب خوابِ پریشاں دیکھا
جس کو پردے میں بھی دیکھے سے ہوں خیرہ آنکھیں
ہم نے اس شعلۂ بے باک کو عریاں دیکھا
تشنہ لب ریت کی ہر موج کو دریا سمجھے
ڈوبنے والے کی آنکھوں میں بیاباں دیکھا

Sunday, 8 January 2017

کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو

کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو
اس دورِ بے کسی میں کوئی آسرا تو ہو
کچھ دھندلے دھندلے خواب ہیں کچھ کانپتے چراغ
زادِ سفر یہی ہے کچھ اس کے سوا تو ہو
ہر چہرہ مصلحت کی نقابوں میں کھو گیا
مل بیٹھیں کس کے ساتھ، کوئی آشنا تو ہو

ان نگاہوں کا اگر ساتھ اجالا ہوتا

ان نگاہوں کا اگر ساتھ اجالا ہوتا
کچھ تو بے وجہ اداسی کا ازالہ ہوتا
چڑھ گئے حق کیلئے دار پہ ہم بھی لیکن
سوچتے ہیں کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا
اور کچھ روز تو دامن کو بچائے رکھتے
اور کچھ روز برے وقت کو ٹالا ہوتا

جز غم کوئی انعام وفا ہو تو کہیں بھی

جز غم کوئی انعامِ وفا ہو تو کہیں بھی
کچھ اس کے سوا ہم کو ملا ہو تو کہیں بھی
جینا ہے فقط جلتی ہوئی ریت پہ چلنا
اس راہ میں سائے کا پتا ہو تو کہیں بھی
ہر لمحہ بکھرتے ہیں، لٹے جاتے ہیں لیکن
کچھ اپنی تباہی کا گِلہ ہو تو کہیں بھی

پتہ نہیں وہ کون تھا

پتہ نہیں وہ کون تھا

پتہ نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ میں
موتیے کی ڈال، پنکھ مور کا تھما کے چل دیا
پتہ نہیں وہ کون تھا
ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا
نظر کو رنگ، دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیا
میں کون ہوں؟ گزرنے والا کون تھا؟

Tuesday, 13 January 2015

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

گیت

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی
گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی

یہ چاند بیتے زمانوں کا آئینہ ہو گا
بھٹکتے اَبر میں چہرہ کوئی بنا ہو گا
اداس راہ کوئی داستاں سُنائے گی
کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی