جب کبھی ہوں گے تو ہم مائلِ غم ہی ہوں گے
ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے
ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں
تحفۂ دوست ہیں جب یہ، تو کرم ہی ہوں گے
بزمِ عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور
بس یہی ہو گا نا، کچھ اور ستم ہی ہوں گے
جب کبھی ہوں گے تو ہم مائلِ غم ہی ہوں گے
ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے
ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں
تحفۂ دوست ہیں جب یہ، تو کرم ہی ہوں گے
بزمِ عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور
بس یہی ہو گا نا، کچھ اور ستم ہی ہوں گے
مجھے جینا نہیں آتا
میں جیسے درد کا موسم
گھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میں
دھنک کے رنگ خوشبو نذر کرنے کی تمنا
لے کے جس منظر تلک جاؤں
سیہ اشکوں کے گہرے کہر میں ڈوبا ہوا پاؤں
عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے
دل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہے
بہتے پانی کی طرح درد کی بھی شکل نہیں
جب بھی ملتا ہے نیا روپ ہوا کرتا ہے
میں تو بہروپ ہوں اس کا جو ہے میرے اندر
وہ کوئی اور ہے جو مجھ میں جیا کرتا ہے
جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حُسن مکمل یاد آیا
ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا
سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھُلائے بیٹھے تھے
کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا
تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جُدا جب ہو نہ سکے
جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا پل پل یاد آیا
وقت کے کٹہرے میں
سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے
اپنے جرم پہ
رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو
سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں
تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر
بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ
ہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگ
مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں
ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ
اک نام لوح ذہن سے مٹتا نہیں ہے کیوں
کیوں آخر اس پہ وقت چڑھاتا نہیں ہے رنگ
ایک خواہش
اب کی بار ملو جب مجھ سے
پہلی اور بس آخری بار
ہنس کر ملنا
پیار بھری نظروں سے تکنا
ایسے ملنا
جیسے ازل سے
گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں
میں کسی پتھر، کسی دیوار کا سایا نہیں
جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میں
مدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں، بکھرا نہیں
زندگی بپھرے ہوئے دریا کی کوئی موج ہے
اک دفعہ دیکھا جو منظر پھر کبھی دیکھا نہیں
بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصہ نکل آیا
مِرے دکھ سے کسی آواز کا رشتہ نکل آیا
وہ سر سے پاؤں تک جیسے سلگتی شام کا منظر
یہ کس جادو کی بستی میں دل تنہا نکل آیا
جن آنکھوں کی اداسی میں بیاباں سانس لیتے ہیں
انہیں کی یاد میں نغموں کا یہ دریا نکل آیا