Sunday, 16 May 2021

جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا

 جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حُسن مکمل یاد آیا

ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا

سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھُلائے بیٹھے تھے

کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا

تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جُدا جب ہو نہ سکے

جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا پل پل یاد آیا

جو زیست کے تپتے صحرا پر بھُولے سے کبھی برسا بھی نہیں

ہر موڑ پہ ہر اک منزل پر پھر کیوں وہی بادل یاد آیا

ہم زُود فراموشی کے لیے بدنام بہت ہیں پھر بھی بشر

جب جب بھی چلی مدماتی پون، اُڑتا ہوا آنچل یاد آیا


بشر نواز

No comments:

Post a Comment