درد میں ڈوب کے پھر درد کا درماں نہ رہا
"زندگی! اب تِرا کوئی بھی عنواں نہ رہا"
زخم رستے ہی رہے خوگر نہ ہوئی میں ان کی
اس کی چارہ گری کا کوئی بھی امکاں نہ رہا
کہکشاں جب سے بچھائی ہے تِری راہوں میں
پھر جہاں بھر میں کوئی تم سا تو ذیشاں نہ رہا
درد میں ڈوب کے پھر درد کا درماں نہ رہا
"زندگی! اب تِرا کوئی بھی عنواں نہ رہا"
زخم رستے ہی رہے خوگر نہ ہوئی میں ان کی
اس کی چارہ گری کا کوئی بھی امکاں نہ رہا
کہکشاں جب سے بچھائی ہے تِری راہوں میں
پھر جہاں بھر میں کوئی تم سا تو ذیشاں نہ رہا
کیا
اس رستے سے گزرے تھے
یا درخت پر کُھدا نام دیکھا
وہ فقیر کی دُعا یاد ہے
اس بچے سے پھر گجرا لیا
بارش کو محسوس کیا
عشق کی مسافتیں
گھڑی بھر کی نگاہ تھی
بس اُسی اِک نگاہ میں
ملیں عشق کی عنایتیں
رہیں کم ہی کچھ سخاوتیں
دبے پاؤں چلتے ہوئے
لفظوں کی شہزادی
وہ لفظوں کی شہزادی
جادوئی محل کی اونچی دیواروں کے پیچھے
قیدِ تنہائی میں لفظوں کو بُنتی
تخیل کے پیراہن بناتی
ان پر اپنی قید کے نوحے لکھتی
جب زندگی نے عمر کے کچھ سال چُن لیے
تب خامشی سے موت نے سب جال بُن لیے
شب بھر رہے خموش پہلو میں اور بس
کچھ مسکرائے، اور مِرے حال سُن لیے
کیسا خواب دیکھتی ہے روز چشمِ تر
تعبیرِ ہو یہ عشق کی اجمالِ کُن لیے
ناتمام کھوج
میری کھوج سے اس کی سوچ تک
اس کی سوچ سے میری فہم تک
سمجھنے اور جاننے کے کھیل میں
چل رہا تھا وہ ذات کا تجسس
تہہ در تہہ ذات اندر ذات
مجھے بھی ہیں بڑے شکوے، سناؤں کیا، چلو چھوڑو
درختوں پر لکھے وعدے، مٹاؤں کیا، چلو چھوڑو
کبھی شعلہ، کبھی شبنم، کبھی انجان راہوں میں
دلِ عُشاق کی باتیں، بتاؤں کیا، چلو چھوڑو
گواہی دیتے رہتے ہیں، بدن پر جب بھی سجتے ہیں
مِری جاں رِستے زخموں کو، چھپاؤں کیا، چلو چھوڑو