Showing posts with label لبنیٰ غنیم. Show all posts
Showing posts with label لبنیٰ غنیم. Show all posts

Thursday, 5 January 2023

درد میں ڈوب کے پھر درد کا درماں نہ رہا

 درد میں ڈوب کے پھر درد کا درماں نہ رہا

"زندگی! اب تِرا کوئی بھی عنواں نہ رہا"

زخم رستے ہی رہے خوگر نہ ہوئی میں ان کی

اس کی چارہ گری کا کوئی بھی امکاں نہ رہا

کہکشاں جب سے بچھائی ہے تِری راہوں میں

پھر جہاں بھر میں کوئی تم سا تو ذیشاں نہ رہا

Thursday, 27 January 2022

کیا اس رستے سے گزرے تھے

 کیا

اس رستے سے گزرے تھے

یا درخت پر کُھدا نام دیکھا

وہ فقیر کی دُعا یاد ہے

اس بچے سے پھر گجرا لیا

بارش کو محسوس کیا

Thursday, 23 September 2021

عشق کی مسافتیں

 عشق کی مسافتیں


گھڑی بھر کی نگاہ تھی

بس اُسی اِک نگاہ میں

ملیں عشق کی عنایتیں

رہیں کم ہی کچھ سخاوتیں

دبے پاؤں چلتے ہوئے

Tuesday, 21 September 2021

وہ لفظوں کی شہزادی

 لفظوں کی شہزادی 


وہ لفظوں کی شہزادی

جادوئی محل کی اونچی دیواروں کے پیچھے

قیدِ تنہائی میں لفظوں کو بُنتی

تخیل کے پیراہن بناتی

ان پر اپنی قید کے نوحے لکھتی

Monday, 20 September 2021

جب زندگی نے عمر کے کچھ سال چن لیے

 جب زندگی نے عمر کے کچھ سال چُن لیے

تب خامشی سے موت نے سب جال بُن لیے

شب بھر رہے خموش پہلو میں اور بس

کچھ مسکرائے، اور مِرے حال سُن لیے

کیسا خواب دیکھتی ہے روز چشمِ تر

تعبیرِ ہو یہ عشق کی اجمالِ کُن لیے

میری کھوج سے اس کی سوچ تک

 ناتمام کھوج


میری کھوج سے اس کی سوچ تک

اس کی سوچ سے میری فہم تک

سمجھنے اور جاننے کے کھیل میں

چل رہا تھا وہ ذات کا تجسس

تہہ در تہہ ذات اندر ذات

Saturday, 17 July 2021

مجھے بھی ہیں بڑے شکوے سناؤں کیا چلو چھوڑو

 مجھے بھی ہیں بڑے شکوے، سناؤں کیا، چلو چھوڑو

درختوں پر لکھے وعدے، مٹاؤں کیا، چلو چھوڑو

کبھی شعلہ، کبھی شبنم، کبھی انجان راہوں میں

دلِ عُشاق کی باتیں، بتاؤں کیا، چلو چھوڑو

گواہی دیتے رہتے ہیں، بدن پر جب بھی سجتے ہیں

مِری جاں رِستے زخموں کو، چھپاؤں کیا، چلو چھوڑو