جب زندگی نے عمر کے کچھ سال چُن لیے
تب خامشی سے موت نے سب جال بُن لیے
شب بھر رہے خموش پہلو میں اور بس
کچھ مسکرائے، اور مِرے حال سُن لیے
کیسا خواب دیکھتی ہے روز چشمِ تر
تعبیرِ ہو یہ عشق کی اجمالِ کُن لیے
مجذوبِ عشق بھول گئے اپنے جذب کو
مدہوش ہو کے سر کے سبھی بال دُھن لیے
جذبات کا تلاطمِ اظہار تھا جہاں
سوغات لے کے ہم چلے امثالِ ہُن لیے
لے کر غنیم کو سرِ محفل جو آئے وہ
سب رہ گئے یوں نامۂ اعمال سُن لیے
لبنیٰ مقبول غنیم
No comments:
Post a Comment