Monday, 20 September 2021

میکدے سے ایاغ لے آئے

  میکدے سے ایاغ لے آئے

ہم بھی اپنا سراغ لے آئے

کچھ نہیں بس تمہاری محفل سے

بد گمانی کے داغ لے آئے

بات دل کی تھی دل سے ہو جاتی

بیچ میں تم دماغ لے آئے

خانۂ دل میں روشنی کے لیے

ہم فلک سے چراغ لے آئے

ہم نکل کر حصار جاں سے سحر

زندگی میں فراغ لے آئے


سحرتاب رومانی

No comments:

Post a Comment