Monday, 20 September 2021

دل پر پیار کی مہر لگا کر بھیجا ہے

 دل پر پیار کی مہر لگا کر بھیجا ہے

دیر سے آج اسے ہم نے گھر بھیجا ہے

ہم بھی شام کو گاؤں میں بیٹھا کرتے تھے

ہم کو بھی حالات نے باہر بھیجا ہے

ورنہ اک ہجوم تھا دل دروازے پر 

تم کو سب سے پہلے اندر بھیجا ہے

کل اک دوست کو اپنا حال سنایا تھا 

اس نے مجھے تمہارا نمبر بھیجا ہے

ساری رات لگا کے اس پر نظم لکھی 

اور اس نے بس اچھا لکھ کر بھیجا ہے


زاہد بشیر

No comments:

Post a Comment