دل پر پیار کی مہر لگا کر بھیجا ہے
دیر سے آج اسے ہم نے گھر بھیجا ہے
ہم بھی شام کو گاؤں میں بیٹھا کرتے تھے
ہم کو بھی حالات نے باہر بھیجا ہے
ورنہ اک ہجوم تھا دل دروازے پر
تم کو سب سے پہلے اندر بھیجا ہے
کل اک دوست کو اپنا حال سنایا تھا
اس نے مجھے تمہارا نمبر بھیجا ہے
ساری رات لگا کے اس پر نظم لکھی
اور اس نے بس اچھا لکھ کر بھیجا ہے
زاہد بشیر
No comments:
Post a Comment