Showing posts with label سہیل ثاقب. Show all posts
Showing posts with label سہیل ثاقب. Show all posts

Friday, 16 April 2021

لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے

 لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے

یہ سخن روز نئی ایک کہانی مانگے

اس کے عارض سے صبا مانگتی ہے شادابی

اس کے چلنے سے زمیں موجِ روانی مانگے

دل نے اک حشر بپا جسم میں کر رکھا ہے

ایسا کمبخت ہے کہ مئے بھی پرانی مانگے

Monday, 12 October 2020

کچھ نہ لکھ پایا کئی رنگ بدل کر سوچا

 کچھ نہ لکھ پایا کئی رنگ بدل کر سوچا

میں نے پھر میر کے انداز میں ڈھل کر سوچا

پھر یقیں آیا وہ مجبور بھی ہو سکتا ہے

میں نے جب دائرۂ شک سے نکل کر سوچا

کچھ تو ہو گا جو نکل پڑتے ہیں فوراً آنسو

ایک بچے کی طرح میں نے مچل کر سوچا

Monday, 22 July 2019

غم دوراں کی کسی رات سے کب گزرا ہے

غمِ دوراں کی کسی رات سے کب گزرا ہے 
یہ جنوں قرب کے لمحات سے کب گزرا ہے
تُو بھی میری ہی طرح خود سے گریزاں ہوتا
تُو مِری جاں، مِرے خدشات سے کب گزرا ہے
ہر گھڑی خوف لگا رہتا ہے بچھڑ جانے کا 
تُو ابھی شہر طلسمات سے کب گزرا ہے

ٹوٹے ہوئے سپنے کی طرف دیکھ رہا ہے

ٹوٹے ہوئے سپنے کی طرف دیکھ رہا ہے
بچہ ہے کھلونے کی طرف دیکھ رہا ہے
ہر چند نظر بدلی ہے ہر شخص نے لیکن
وہ پھر بھی زمانے کی طرف دیکھ رہا ہے
بچنے کے تمہیں جو بھی جتن کرنے ہیں کر لو
طوفان کنارے کی طرف دیکھ رہا ہے

کب کہاں کس سے کوئی وصل کی شب مانگتا ہے

کب کہاں کس سے کوئی وصل کی شب مانگتا ہے
سرد راتوں کے گزرنے کا سبب مانگتا ہے
اپنے خوابوں کے فسُوں سے وہ نکل آیا ہے
رنگ کچھ ہلکے وہ تصویر میں اب مانگتا ہے
کیا عجب خواہشیں اس ذہن نے پالی ہوئی ہیں
دن کو ڈھلنے نہیں دیتا ہے پہ شب مانگتا ہے

Tuesday, 2 May 2017

لاکھ روکا تھا زمانے نے مگر لایا ہوں

لاکھ روکا تھا زمانے نے مگر لایا ہوں
موسمِ مرگ میں جینے کی خبر لایا ہوں
دھول چہرے پہ جمی، پاؤں میں چھالوں کی بہار
بس یہی صاحبو! سامانِ سفر لایا ہوں
گو کہ پامالِ زمانہ ہوں، مگر تیرے لیے
اس اندھیرے میں بھی امیدِ سحر لایا ہوں

ٹھکرا کے اپنی ساری تب و تاب آ گئے

ٹھکرا کے اپنی ساری تب و تاب آ گئے
محفل میں لے کے ہم دلِ بے تاب آ گئے
ہم سے لکھے گئے نہ کسی طور آج تک
ایسے بھی اِس کہانی میں کچھ باب آ گئے
جاگا تو مجھ سے روٹھ کے جانے کہاں گئے
سویا تو مجھ کو لینے مِرے خواب آ گئے

آستیں میں سانپ پالے جائیں گے

آستیں میں سانپ پالے جائیں گے
نِت نئے رشتے نکالے جائیں گے
پہلے کرنا ہے انہیں بے بال و پر
یہ پرندے پھر اچھالے جائیں گے
محوِ حیرت ہوں کہ سُوئے مۓ کدہ
مجھ سے پہلے ہوش والے جائیں گے

سچ جو کہتا ہوں تو سچائی سے ڈر لگتا ہے

سچ جو کہتا ہوں تو سچائی سے ڈر لگتا ہے
خود مجھے اپنی ہی دانائی سے ڈر لگتا ہے
ہم نے دیکھے ہیں بدلتے ہوئے موسم کتنے
موسمِ گُل! تِری انگڑائی سے ڈر لگتا ہے
جانے کب کون سے منظر کو اتارے دل میں
اِس بھٹکتی ہوئی بینائی سے ڈر لگتا ہے

Friday, 16 December 2016

مستی میں لہراتا ہوں خوش رہتا ہوں

مستی میں لہراتا ہوں خوش رہتا ہوں
پاگل ہوں ناں، گاتا ہوں، خوش رہتا
ہر شب جھیل کنارے جا کر چپکے سے 
چاند کو میں چھو آتا ہوں خوش رہتا ہوں
پہلے اس کی آنکھیں دھیان میں آتی ہیں 
پھر ساغر چھلکاتا ہوں، خوش رہتا ہوں

پرکھنے کے لیے خود کو گماں سے نکلو تو

پرکھنے کیلئے خود کو گماں سے نکلو تو
تم اپنے حلقۂ دانشوراں سے نکلو تو
ابھی تو عشق کا پہلا ہی مرحلہ ہے جناب
نماز بعد میں، وقتِ اذاں سے نکلو تو
امامِ عشق! ہے الفت میں کیوں جنوں خیزی
تم اپنی ذات کے آتش فشاں سے نکلو تو

بعد مدت ہنسی ہے تنہائی

بعد مدت ہنسی ہے تنہائی
دیکھ مجھ پر سجی ہے تنہائی
ایسی تنہائی ہے خدا کی پناہ
مجھ کو کھلنے لگی ہے تنہائی
دھیرے دھیرے بڑھی ہے بے چینی 
دھیرے دھیرے بڑھی ہے تنہائی

Saturday, 21 March 2015

میر کے شعر کو سینے سے لگائے ہوئے تم

میرؔ کے شعر کو سینے سے لگائے ہوئے تم
اچھے لگتے ہو محبت کو سمجھتے ہوئے تم
وہم، ادراک، گماں، شک کی سبھی تاویلیں
میں تمہیں اور مجھے اتنا پرکھتے ہوئے تم
کتنے ہمدرد لگے شام کی وحشت میں مجھے
اپنے دامن میں مرے غم کو سمیٹے ہوئے تم

Friday, 20 March 2015

مجھے گر کر سنبھلنے میں‌‌ ذرا سی دیر باقی ہے

ابھی منظر بدلنے میں‌ ذرا سی دیر باقی ہے
مجھے گر کر سنبھلنے میں‌‌ ذرا سی دیر باقی ہے
ابھی پوری طرح جاگا نہیں میں خواب غفلت سے
طبیعت کے سنبھلنے میں‌ ذرا سی دیر باقی ہے
دیا بجھنے نہ دینا تم کسی بھی طور سے دل کا
ہوا کا رخ بدلنے میں ذرا سی دیر باقی ہے

Wednesday, 26 November 2014

کبھی مضمحل کبھی پرسکوں کبھی برہمی ہے مزاج میں

کبھی مضمحل کبھی پُرسکوں کبھی برہمی ہے مزاج میں
بڑا فرق لگتا ہے جانِ جاں تِرے کل میں اور تِرے آج میں
نئی بندشوں کے ہیں دائرے مِرے جسم و جاں کی فصیل پر
نہیں راہ کوئی فرار کی، میں گِھرا ہوا ہوں سماج میں
یہ علامتیں ہیں شکست کی کہ جو ہاتھ ملتے ہو ہر گھڑی
کبھی وقت سے ہی گِلہ رہا، کبھی نقص رسم و رواج میں

صدہا نہیں جناب مگر چند کب نہ تھے

صدہا نہیں جناب مگر چند کب نہ تھے
ہم میں بھی اگلی نسل کے پیوند کب نہ تھے
کب تھے ہمارے شہر میں کچھ کم صفات لوگ
کٹ جائیں اک صدا پہ، وہ فرزند کب نہ تھے
بیعت کے اعتراف سے کب ہم کو تھا گریز
ہم اے امیرِ شہر! رضامند کب نہ تھے

انا کو بیچتا کیسے یہ ہمت کر نہیں پایا

انا کو بیچتا کیسے، یہ ہمت کر نہیں پایا
میں خود اپنی کبھی کھل کر حمایت کر نہیں پایا
چمن کو رکھ دیا گِروی، وہ جرأت کر نہیں پایا
محافظ بن کے آیا تھا، حفاظت کر نہیں پایا
کبھی سودا خسارے میں، کبھی گاہک نہیں کوئی
میں طَے بازارِ دل میں اپنی قیمت کر نہیں پایا

Friday, 21 November 2014

ہم نے دیکھ رکھی ہیں منصفوں کی تحریریں

ہم نے دیکھ رکھی ہیں منصفوں کی تحریریں
اڑ رہی ہیں رستوں میں فیصلوں کی تحریریں
چاہے وہ زمیں پر ہو، یا ہو آسمانوں میں
ہاتھ میں نہیں ہوتیں قسمتوں کی تحریریں
خواب لکھنے بیٹھا ہے سوچ لے مگر اتنا
منہ چڑائیں گی تیرا خواہشوں کی تحریریں

ایک بے چینی سی در آئی مری وحشت میں

ایک بے چینی سی در آئی مِری وحشت میں
اس کی پھر یاد اتر آئی مری وحشت میں
ڈھونڈنے خود کو میں نکلا تھا، ملا کچھ بھی نہیں
مجھ کو وحشت ہی نظر آئی مری وحشت میں
میں نبھانے کو نبھا لیتا تِرے سب وعدے
کیا کروں ضد جو اتر آئی مری وحشت میں

چاند، تاروں کے جو انبار پہ رکھا ہوا ہے

چاند، تاروں کے جو انبار پہ رکھا ہوا ہے
اک دِیا ہم نے بھی دیوار پہ رکھا ہوا ہے
تم نے کاٹی ہے کہیں دِیپ جلاتے ہوئے رات
ہم نے بھی ہجر کو آزار پہ رکھا ہوا ہے
جب کسی طور بدلتا ہی نہیں تو ہم نے
اپنا دکھ عرصۂ دشوار پہ رکھا ہوا ہے