لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے
یہ سخن روز نئی ایک کہانی مانگے
اس کے عارض سے صبا مانگتی ہے شادابی
اس کے چلنے سے زمیں موجِ روانی مانگے
دل نے اک حشر بپا جسم میں کر رکھا ہے
ایسا کمبخت ہے کہ مئے بھی پرانی مانگے
لفظ مانگے تو کبھی اس کے معانی مانگے
یہ سخن روز نئی ایک کہانی مانگے
اس کے عارض سے صبا مانگتی ہے شادابی
اس کے چلنے سے زمیں موجِ روانی مانگے
دل نے اک حشر بپا جسم میں کر رکھا ہے
ایسا کمبخت ہے کہ مئے بھی پرانی مانگے
کچھ نہ لکھ پایا کئی رنگ بدل کر سوچا
میں نے پھر میر کے انداز میں ڈھل کر سوچا
پھر یقیں آیا وہ مجبور بھی ہو سکتا ہے
میں نے جب دائرۂ شک سے نکل کر سوچا
کچھ تو ہو گا جو نکل پڑتے ہیں فوراً آنسو
ایک بچے کی طرح میں نے مچل کر سوچا