کچھ نہ لکھ پایا کئی رنگ بدل کر سوچا
میں نے پھر میر کے انداز میں ڈھل کر سوچا
پھر یقیں آیا وہ مجبور بھی ہو سکتا ہے
میں نے جب دائرۂ شک سے نکل کر سوچا
کچھ تو ہو گا جو نکل پڑتے ہیں فوراً آنسو
ایک بچے کی طرح میں نے مچل کر سوچا
پا بہ زنجیر نظر آیا مجھے میرا سخن
کوئی مصرعہ جو کبھی میں نے سنبھل کر سوچا
بس اجالا ہی اجالا تھا مرے چاروں طرف
اپنی ہر سوچ سے آگے جو نکل کر سوچا
جب زباں دانتوں تلے آئی تو یہ جان لیا
میرے بارے میں کسی نے کہیں جل کر سوچا
جانے کتنوں کو میسر نہیں یہ بھی ثاقب
خشک روٹی کو جو پانی سے نگل کر سوچا
سہیل ثاقب
No comments:
Post a Comment