Monday, 12 October 2020

کچھ نہ لکھ پایا کئی رنگ بدل کر سوچا

 کچھ نہ لکھ پایا کئی رنگ بدل کر سوچا

میں نے پھر میر کے انداز میں ڈھل کر سوچا

پھر یقیں آیا وہ مجبور بھی ہو سکتا ہے

میں نے جب دائرۂ شک سے نکل کر سوچا

کچھ تو ہو گا جو نکل پڑتے ہیں فوراً آنسو

ایک بچے کی طرح میں نے مچل کر سوچا

پا بہ زنجیر نظر آیا مجھے میرا سخن

کوئی مصرعہ جو کبھی میں نے سنبھل کر سوچا

بس اجالا ہی اجالا تھا مرے چاروں طرف

اپنی ہر سوچ سے آگے جو نکل کر سوچا

جب زباں دانتوں تلے آئی تو یہ جان لیا

میرے بارے میں کسی نے کہیں جل کر سوچا

جانے کتنوں کو میسر نہیں یہ بھی ثاقب

خشک روٹی کو جو پانی سے نگل کر سوچا


سہیل ثاقب

No comments:

Post a Comment