Showing posts with label راکب مختار. Show all posts
Showing posts with label راکب مختار. Show all posts

Monday, 22 July 2024

دیکھ پگلی جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں

دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں

وقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں

جانے کس غم میں گرفتار ہیں بستی کے مکیں

نوجواں لوگ بھی بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں

کچھ فقیروں میں بھی ہیں شاہی عناصر موجود

اور کچھ شاہ فقیروں کی طرح لگتے ہیں

Thursday, 4 April 2024

عین ممکن ہے کوئی آنکھ بھی بیدار نہ ہو

 عین ممکن ہے کوئی آنکھ بھی بیدار نہ ہو

صبح پیڑوں پہ اگر چڑیوں کی چہکار نہ ہو

تیری آمد پہ ہر اک شخص کی خواہش ہو گی

مجھ سوا کوئی گلابوں کا خریدار نہ ہو

گردش وقت سے آ دونوں ہی مل کر ڈھونڈیں

ایسا پل جس میں بچھڑنا ہمیں دشوار نہ ہو

Friday, 27 October 2023

کیسی تقسیم تھی سب ایک ہی گھر کے نکلے

 طنزیہ شاعری


کیسی تقسیم تھی، سب ایک ہی گھر کے نکلے

تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے

دشت کو روند کے دریاؤں کو بھی پار کیا

اپنے پاؤں تو کسی اور سفر کے نکلے

جن کی دستار کو میں چُوم لیا کرتا تھا

وقت بدلا تو وہ دُشمن مِرے سر کے نکلے

Sunday, 19 March 2023

کٹے سروں کے بنے تخت پر اچھلتا ہے

 کٹے سروں کے بنے تخت پر اچھلتا ہے

امیرِ شہر ستم گر کہاں بدلتا ہے

اُجاڑ گھر کے درِ خستہ حال سے ہر شام

اُداس شخص نہیں تعزیہ نکلتا ہے

خدا کا خوف کرو خیمہ چھوڑنے والو

بُجھا نہیں ہے ابھی تو چراغ جلتا ہے

Saturday, 11 March 2023

بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

 بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

بین کرنے کو ماں جائیاں رہ گئیں

فاتحِ شہر خوش ہے کہ سب مر گئے

قصر میں صرف شہزادیاں رہ گئیں

منقسم یوں ہوا ترکۂ زندگی

میرے حصے میں بربادیاں رہ گئیں

Thursday, 9 March 2023

ہوئے تھے بین فضا میں نمی بکھر گئی تھی

 ہوئے تھے بین فضا میں نمی بکھر گئی تھی

جب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئی تھی

کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھا

تو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئی تھی

بس ایک پھول کِھلا تھا عرب کے صحرا میں

فضائے دہر کئی خوشبوؤں سے بھر گئی تھی

Friday, 6 January 2023

لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے

 لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے

اے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئے

کوئی مکالمہ ہی نہیں رات سے مِرا

میں چُپ ہوں میرے روشنیوں والے مر گئے

محسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نے

میرے دل و دماغ چراغوں سے بھر گئے

Tuesday, 22 November 2022

شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

 شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

جہاں چراغ 🪔 جلانے پہ ہاتھ کٹ جاتے

کلائی کاٹ کے سوئی ہے چین سے لڑکی

💢اگر نہ کاٹتی دو خاندان کٹ جاتے💢

خوشی سے پھول گئے تھے یہ بھول کرتے ہوئے

💔اگر اداس نہ ہوتے تو لوگ پھٹ جاتے

Tuesday, 30 August 2022

یہ کتنا سچ ہے دیکھیں گے کہ وہ کیسے لگاتے ہیں

 یہ کتنا سچ ہے دیکھیں گے کہ وہ کیسے لگاتے ہیں

سنا ہے خوبصورت لوگ زخم اچھے لگاتے ہیں

مسافت میں الگ دستور ہے میرے قبیلے کا

جہاں پانی نہیں ہوتا، وہاں خیمے لگاتے ہیں

مقفّل در سوالی کے جگر کو چیر دیتا ہے

گلی کے لوگ دروازوں پہ کیوں تالے لگاتے ہیں

Wednesday, 27 July 2022

اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے

 اپنی دُھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے

شام ڈھلی تو ملاحوں نے گیت فراق کا گایا ہے

جب دنیا کے سب سوداگر دنیا داری کر رہے تھے

انشا جی سر پیٹ رہے تھے؛ مایا ہے سب مایا ہے

سورج جاتے جاتے چھوڑ گیا تھا اندھی لڑکی کو

ہم نے شب کا ماتھا چوم کے پہلا دِیپ جلایا ہے

Tuesday, 19 July 2022

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر

 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر

جھپٹ پڑا حلال زادہ خوبرو حرام پر

یہ کس کے پاس مے کدوں کا انتظام آ گیا

شراب رِند مانگنے لگے خدا کے نام پر

ادھر طوائفوں میں کھو گیا ہے شاہ سلطنت

ادھر مری پڑی ہیں شاہزادیاں غلام پر

Monday, 4 July 2022

میں سمجھتا تھا کہ پابند انا رہتے ہیں

 میں سمجھتا تھا کہ پابندِ انا رہتے ہیں

یار میرے مِرے ہونے سے خفا رہتے ہیں

تُو نے اس واسطے چھوڑا تھا کہ مر جائیں گے

دیکھ لے یار! کہ ہم تیرے سوا رہتے ہیں

نسلِ شاہی کے محلاتِ مقدس ہیں ادھر

جن کے پچھواڑے سبھی خواجہ سرا رہتے ہیں

Sunday, 24 April 2022

مجھ ایسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے

 مجھ ایسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے

یہ سانس لیتی اداسی تو گھٹ کے مر جائے

زباں پہ سورۂ یوسف کا ورد جاری ہو

وہ حسن پوش اگر پاس سے گزر جائے

یہ جوئے عشق ہے بھائی نہیں ہے آب رواں

یہ دل ہے دل کوئی دریا نہیں کہ بھر جائے

Saturday, 5 February 2022

امیر شہر کے حالات جب خراب ہوئے

 امیرٍ شہر کے حالات جب خراب ہوئے

بڑی خرابی ہوئی اور سب خراب ہوئے

ہمارے چہروں کی اُلجھن بتا رہی ہے کہ ہم

بلا جواز بنے،۔ بے سبب خراب ہوئے

یہی تو دُکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے

گُزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے

Saturday, 1 January 2022

تو مجھ سے دور چلا جائے گا خدا نہ کرے

 تُو مجھ سے دور چلا جائے گا خدا نہ کرے

خدا کرے تُو بچھڑنے کا حوصلہ نہ کرے

اسے کہو، مِری آنکھیں دھڑکنے لگتی ہیں

اسے کہو کہ، مِرے سامنے ہنسا نہ کرے

تمہارے مالِ غنیمت میں جس کی بیٹی ہے

دعا کرو کہ وہ مفتُوح بد دُعا نہ کرے

Saturday, 11 September 2021

ہماری آنکھوں ہی آنکھوں میں سارے بنتے گئے

 ہماری آنکھوں ہی آنکھوں میں سارے بنتے گئے

وہ مجھ کو تکتا رہا اور اشارے بنتے گئے

خراب حالوں کو دھتکارتی رہی دنیا

خرابیوں کے خرابے ہمارے بنتے گئے

ہمارے دم سے فروزاں ہوئی ہے رات کہ ہم

اچھالتے رہے آنسو، ستارے بنتے گئے

Friday, 25 June 2021

بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں

 بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں

نکل سکا نہ کبھی میکدے کی شام سے میں

وہ بات بات میں دنیا کی بات کرتا ہے

کلام کیسے کروں ایسے بد کلام سے میں

خدا کرے مجھے مرنے کا ڈھنگ آ جائے

گَلا رکھوں تِرے خنجر پہ احترام سے میں

Tuesday, 11 May 2021

شکوے نہ کیا کر پس دیوار ہمارے

 شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے

پہلے بھی بہت سے ہیں وفادار ہمارے

اس شہر میں جو میٹھی زباں بول رہے ہیں

یہ لوگ ہیں در اصل نمک خوار ہمارے

ہم اب بھی مدینے میں انہیں ڈھونڈ رہے ہیں

لوٹے ہی نہیں جنگ سے سردار ہمارے

Friday, 30 April 2021

مجھ ایسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے

 مجھ ایسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے

یہ سانس لیتی اداسی تو گھٹ کے مر جائے

زباں پہ سورۂ یوسف کا ورد جاری ہو

وہ حسن پوش اگر پاس سے گزر جائے

یہ جوئے عشق ہے بھائی نہیں ہے آب رواں

یہ دل ہے دل کوئی دریا نہیں کہ بھر جائے

Tuesday, 9 March 2021

ظالم سمجھ رہا تھا کہ مٹی پہ جا گرا

 ظالم سمجھ رہا تھا کہ مٹی پہ جا گِرا

پنچھی شجر سے سیدھا مِرے دل میں آ گرا

سنگت فضا کی ٹوٹی نہیں ہے زمین پر

زخمی سے پہلے اڑتے ہوئے دوسرا گرا

سوگِ شکست لوگ مناتے ہیں اب وہاں

رستے میں جس جگہ پہ مِرا حوصلہ گرا