دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں
وقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں
جانے کس غم میں گرفتار ہیں بستی کے مکیں
نوجواں لوگ بھی بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں
کچھ فقیروں میں بھی ہیں شاہی عناصر موجود
اور کچھ شاہ فقیروں کی طرح لگتے ہیں
دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں
وقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں
جانے کس غم میں گرفتار ہیں بستی کے مکیں
نوجواں لوگ بھی بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں
کچھ فقیروں میں بھی ہیں شاہی عناصر موجود
اور کچھ شاہ فقیروں کی طرح لگتے ہیں
عین ممکن ہے کوئی آنکھ بھی بیدار نہ ہو
صبح پیڑوں پہ اگر چڑیوں کی چہکار نہ ہو
تیری آمد پہ ہر اک شخص کی خواہش ہو گی
مجھ سوا کوئی گلابوں کا خریدار نہ ہو
گردش وقت سے آ دونوں ہی مل کر ڈھونڈیں
ایسا پل جس میں بچھڑنا ہمیں دشوار نہ ہو
طنزیہ شاعری
کیسی تقسیم تھی، سب ایک ہی گھر کے نکلے
تیرے دربار سے جو جھولیاں بھر کے نکلے
دشت کو روند کے دریاؤں کو بھی پار کیا
اپنے پاؤں تو کسی اور سفر کے نکلے
جن کی دستار کو میں چُوم لیا کرتا تھا
وقت بدلا تو وہ دُشمن مِرے سر کے نکلے
کٹے سروں کے بنے تخت پر اچھلتا ہے
امیرِ شہر ستم گر کہاں بدلتا ہے
اُجاڑ گھر کے درِ خستہ حال سے ہر شام
اُداس شخص نہیں تعزیہ نکلتا ہے
خدا کا خوف کرو خیمہ چھوڑنے والو
بُجھا نہیں ہے ابھی تو چراغ جلتا ہے
بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں
بین کرنے کو ماں جائیاں رہ گئیں
فاتحِ شہر خوش ہے کہ سب مر گئے
قصر میں صرف شہزادیاں رہ گئیں
منقسم یوں ہوا ترکۂ زندگی
میرے حصے میں بربادیاں رہ گئیں
ہوئے تھے بین فضا میں نمی بکھر گئی تھی
جب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئی تھی
کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھا
تو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئی تھی
بس ایک پھول کِھلا تھا عرب کے صحرا میں
فضائے دہر کئی خوشبوؤں سے بھر گئی تھی
لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے
اے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئے
کوئی مکالمہ ہی نہیں رات سے مِرا
میں چُپ ہوں میرے روشنیوں والے مر گئے
محسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نے
میرے دل و دماغ چراغوں سے بھر گئے
شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے
جہاں چراغ 🪔 جلانے پہ ہاتھ کٹ جاتے
کلائی کاٹ کے سوئی ہے چین سے لڑکی
💢اگر نہ کاٹتی دو خاندان کٹ جاتے💢
خوشی سے پھول گئے تھے یہ بھول کرتے ہوئے
💔اگر اداس نہ ہوتے تو لوگ پھٹ جاتے
یہ کتنا سچ ہے دیکھیں گے کہ وہ کیسے لگاتے ہیں
سنا ہے خوبصورت لوگ زخم اچھے لگاتے ہیں
مسافت میں الگ دستور ہے میرے قبیلے کا
جہاں پانی نہیں ہوتا، وہاں خیمے لگاتے ہیں
مقفّل در سوالی کے جگر کو چیر دیتا ہے
گلی کے لوگ دروازوں پہ کیوں تالے لگاتے ہیں
اپنی دُھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے
شام ڈھلی تو ملاحوں نے گیت فراق کا گایا ہے
جب دنیا کے سب سوداگر دنیا داری کر رہے تھے
انشا جی سر پیٹ رہے تھے؛ مایا ہے سب مایا ہے
سورج جاتے جاتے چھوڑ گیا تھا اندھی لڑکی کو
ہم نے شب کا ماتھا چوم کے پہلا دِیپ جلایا ہے
پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر
جھپٹ پڑا حلال زادہ خوبرو حرام پر
یہ کس کے پاس مے کدوں کا انتظام آ گیا
شراب رِند مانگنے لگے خدا کے نام پر
ادھر طوائفوں میں کھو گیا ہے شاہ سلطنت
ادھر مری پڑی ہیں شاہزادیاں غلام پر
میں سمجھتا تھا کہ پابندِ انا رہتے ہیں
یار میرے مِرے ہونے سے خفا رہتے ہیں
تُو نے اس واسطے چھوڑا تھا کہ مر جائیں گے
دیکھ لے یار! کہ ہم تیرے سوا رہتے ہیں
نسلِ شاہی کے محلاتِ مقدس ہیں ادھر
جن کے پچھواڑے سبھی خواجہ سرا رہتے ہیں
مجھ ایسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے
یہ سانس لیتی اداسی تو گھٹ کے مر جائے
زباں پہ سورۂ یوسف کا ورد جاری ہو
وہ حسن پوش اگر پاس سے گزر جائے
یہ جوئے عشق ہے بھائی نہیں ہے آب رواں
یہ دل ہے دل کوئی دریا نہیں کہ بھر جائے
امیرٍ شہر کے حالات جب خراب ہوئے
بڑی خرابی ہوئی اور سب خراب ہوئے
ہمارے چہروں کی اُلجھن بتا رہی ہے کہ ہم
بلا جواز بنے،۔ بے سبب خراب ہوئے
یہی تو دُکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے
گُزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے
تُو مجھ سے دور چلا جائے گا خدا نہ کرے
خدا کرے تُو بچھڑنے کا حوصلہ نہ کرے
اسے کہو، مِری آنکھیں دھڑکنے لگتی ہیں
اسے کہو کہ، مِرے سامنے ہنسا نہ کرے
تمہارے مالِ غنیمت میں جس کی بیٹی ہے
دعا کرو کہ وہ مفتُوح بد دُعا نہ کرے
ہماری آنکھوں ہی آنکھوں میں سارے بنتے گئے
وہ مجھ کو تکتا رہا اور اشارے بنتے گئے
خراب حالوں کو دھتکارتی رہی دنیا
خرابیوں کے خرابے ہمارے بنتے گئے
ہمارے دم سے فروزاں ہوئی ہے رات کہ ہم
اچھالتے رہے آنسو، ستارے بنتے گئے
بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں
نکل سکا نہ کبھی میکدے کی شام سے میں
وہ بات بات میں دنیا کی بات کرتا ہے
کلام کیسے کروں ایسے بد کلام سے میں
خدا کرے مجھے مرنے کا ڈھنگ آ جائے
گَلا رکھوں تِرے خنجر پہ احترام سے میں
شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے
پہلے بھی بہت سے ہیں وفادار ہمارے
اس شہر میں جو میٹھی زباں بول رہے ہیں
یہ لوگ ہیں در اصل نمک خوار ہمارے
ہم اب بھی مدینے میں انہیں ڈھونڈ رہے ہیں
لوٹے ہی نہیں جنگ سے سردار ہمارے
مجھ ایسا شخص اگر قہقہوں سے بھر جائے
یہ سانس لیتی اداسی تو گھٹ کے مر جائے
زباں پہ سورۂ یوسف کا ورد جاری ہو
وہ حسن پوش اگر پاس سے گزر جائے
یہ جوئے عشق ہے بھائی نہیں ہے آب رواں
یہ دل ہے دل کوئی دریا نہیں کہ بھر جائے
ظالم سمجھ رہا تھا کہ مٹی پہ جا گِرا
پنچھی شجر سے سیدھا مِرے دل میں آ گرا
سنگت فضا کی ٹوٹی نہیں ہے زمین پر
زخمی سے پہلے اڑتے ہوئے دوسرا گرا
سوگِ شکست لوگ مناتے ہیں اب وہاں
رستے میں جس جگہ پہ مِرا حوصلہ گرا