Saturday, 5 February 2022

امیر شہر کے حالات جب خراب ہوئے

 امیرٍ شہر کے حالات جب خراب ہوئے

بڑی خرابی ہوئی اور سب خراب ہوئے

ہمارے چہروں کی اُلجھن بتا رہی ہے کہ ہم

بلا جواز بنے،۔ بے سبب خراب ہوئے

یہی تو دُکھ ہے کہ موجودگاں کی غفلت سے

گُزشتگان کے نام و نسب خراب ہوئے

جو رات دن مجھے جینا سکھایا کرتا تھا

چلا گیا تو مِرے روز و شب خراب ہوئے

ہم ایسے لوگ نہ دیں کے رہے نہ دنیا کے

تمہارے چاہنے والے عجب خراب ہوئے

تمہاری چڑھتی جوانی کا فیض ہے، ورنہ

ہم ایسے پہلے نہ تھے جیسے اب خراب ہوئے

بقدرٍ شوق یہاں ہر کسی نے پیار کیا

بفضلٍ عشق یہاں سب کے سب خراب ہوئے


راکب مختار

No comments:

Post a Comment