گزرے ہوئے لمحوں کے حسابوں میں رہیں گے
ہم تجھ سے جدا ہو کے عذابوں میں رہیں گے
ہر گام پہ کانٹوں نے قدم تھام لیے ہیں
سوچا تھا کہ کلیوں میں، گلابوں میں رہیں گے
جو لوگ تِرے وصل کی امید پہ خوش ہیں
وہ لوگ محبت کے سرابوں میں رہیں گے
جب تک تِری آنکھوں کا اشارہ نہیں ہوتا
ہم لوگ یونہی غرق شرابوں میں رہیں گے
باقی نہ مٹائے گا کبھی ہم کو زمانہ
ہم زندہ و جاوید کتابوں میں رہیں گے
باقی احمد پوری
No comments:
Post a Comment