رسمِ دیوانگی نبھانے لگے
اب تو پتھر اِدھر بھی آنے لگے
نشۂ درد جب اُترنے لگا
زخم کچھ اور مُسکرانے لگے
اُس کی آوارگی پہ بات چلی
سارے الزام مجھ پہ آنے لگے
خواہشِ لذتِ سفر تھی کہ ہم
آ کے منزل پہ، لَوٹ جانے لگے
پیڑ سب شاخ شاخ ٹوٹ گئے
یوں ہواؤں کے تازیانے لگے
لفظ تو سب کے واسطے ہھیں، مگر
لوگ مفہوم بھی چُرانے لگے
نام لکھ کر میرا، حسن ناصر
جانے کیوں پھر اُسے مٹانے لگے
حسن ناصر
No comments:
Post a Comment