Showing posts with label سیدہ فرحت. Show all posts
Showing posts with label سیدہ فرحت. Show all posts

Monday, 14 November 2022

بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا

بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا

خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت

خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے

وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

Monday, 20 December 2021

میں حیات کے بحر بیکراں میں مثال قطرہ ہوں اور کیا ہوں

 میں حیات کے بحرِ بیکراں میں مثالِ قطرہ ہوں اور کیا ہوں

مگر شعور خودی ہے مجھ کو میں اپنی ہستی سے آشنا ہوں

یہ میرے سازِ انا کی لے ہے جو بزمِ عالم میں گونجتی ہے

وہ جس میں ہستی کا زیر وبم ہے میں جذبۂ دل کی وہ صدا ہوں

فنا کی تیزاور تند آندھی میں ضو فشاں جو رہی ہمیشہ

حیات کا نور مجھ میں پنہاں جہاں میں اک مشعلِ بقا ہوں

Monday, 13 December 2021

اپنی آغوش میں لے مادر فطرت مجھ کو

 مادر فطرت


اپنی آغوش میں لے مادرِ فطرت مجھ کو

ہے تِرے سایۂ داماں کی ضرورت مجھ کو

میرے جذبات ہیں مجروح، مِرا دل ہے فگار

غمِ دوراں کی تپش پھونک رہی ہے دلِ زار

میری ماں! آج تو سینے سے لگا لے مجھ کو

اپنے آنچل میں ذرا دیر چھپا لے مجھ کو

Tuesday, 7 December 2021

نہ قصیدہ نہ غزل اور نہ رباعی لکھئے

 نہ قصیدہ، نہ غزل اور نہ رباعی لکھیۓ

دورِ موجودہ میں کچھ دل کی تباہی لکھیۓ

زخم خوردہ غمِ دوراں سے ہیں جذباتِ لطیف

حسن اور عشق کی کیا مدح سرائی لکھیۓ

بجھ گئے دل میں امیدوں کے چراغِ روشن

یاس و حرماں کے اندھیروں کی سیاہی لکھیۓ

Sunday, 5 December 2021

نہ فرشِ خاک پہ ٹہریں گے نقش پا کی طرح

 نہ فرشِ خاک پہ ٹہریں گے نقشِ پا کی طرح

رواں دواں ہیں فضاؤں میںہم ہوا کی طرح

پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے

سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا

صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کر طرح

Saturday, 4 December 2021

سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں

 سوزِ دل پاسِ وفا دردِ جگر ہے کہ نہیں

جو تھا مسجودِ ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

فرشںِ گیتی سے سرِ عرش پہنچنے والے

کوچۂ دل سے تِری راہگزر ہے کہ نہیں

گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا

جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

Friday, 3 December 2021

شور اتنا بڑھا ہر صدا گم ہوئی

 شور اتنا بڑھا، ہر صدا گُم ہوئی

بھیڑ میں میری آوازِ پا گم ہوئی

اب خدائی کا دعویٰ ہر ایک بُت کو ہے

تیری پہچان بھی اے خدا! گم ہوئی

آدمی اب مشینوں کی دنیا میں ہے

جذبۂ دل کی ہر اک نوا گم ہوئی

Thursday, 2 December 2021

یہ حرص و ہوس کے سودائی آداب محبت کیا جانیں

 یہ حِرص و ہوس کے سودائی آدابِ محبت کیا جانیں

یہ عشق کے معنی کیا سمجھیں یہ حُسن کی قیمت کیا جانیں

ہم چُومتے رہتے ہیں ہر دم فطرت کی حسِیں پیشانی کو

آزاد منش ہم اہلِ نظر قانون و شریعت کیا جانیں

ہو خوفِ جہنم جس میں نہاں جنت کی ہوس ہو جس میں عیاں

اللہ کے سادہ دل بندے ہم ایسی عبادت کیا جانیں