بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا
کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا
بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا
بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا
کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا
بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا
میں حیات کے بحرِ بیکراں میں مثالِ قطرہ ہوں اور کیا ہوں
مگر شعور خودی ہے مجھ کو میں اپنی ہستی سے آشنا ہوں
یہ میرے سازِ انا کی لے ہے جو بزمِ عالم میں گونجتی ہے
وہ جس میں ہستی کا زیر وبم ہے میں جذبۂ دل کی وہ صدا ہوں
فنا کی تیزاور تند آندھی میں ضو فشاں جو رہی ہمیشہ
حیات کا نور مجھ میں پنہاں جہاں میں اک مشعلِ بقا ہوں
مادر فطرت
اپنی آغوش میں لے مادرِ فطرت مجھ کو
ہے تِرے سایۂ داماں کی ضرورت مجھ کو
میرے جذبات ہیں مجروح، مِرا دل ہے فگار
غمِ دوراں کی تپش پھونک رہی ہے دلِ زار
میری ماں! آج تو سینے سے لگا لے مجھ کو
اپنے آنچل میں ذرا دیر چھپا لے مجھ کو
نہ قصیدہ، نہ غزل اور نہ رباعی لکھیۓ
دورِ موجودہ میں کچھ دل کی تباہی لکھیۓ
زخم خوردہ غمِ دوراں سے ہیں جذباتِ لطیف
حسن اور عشق کی کیا مدح سرائی لکھیۓ
بجھ گئے دل میں امیدوں کے چراغِ روشن
یاس و حرماں کے اندھیروں کی سیاہی لکھیۓ
نہ فرشِ خاک پہ ٹہریں گے نقشِ پا کی طرح
رواں دواں ہیں فضاؤں میںہم ہوا کی طرح
پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح
سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کر طرح
سوزِ دل پاسِ وفا دردِ جگر ہے کہ نہیں
جو تھا مسجودِ ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں
فرشںِ گیتی سے سرِ عرش پہنچنے والے
کوچۂ دل سے تِری راہگزر ہے کہ نہیں
گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں
شور اتنا بڑھا، ہر صدا گُم ہوئی
بھیڑ میں میری آوازِ پا گم ہوئی
اب خدائی کا دعویٰ ہر ایک بُت کو ہے
تیری پہچان بھی اے خدا! گم ہوئی
آدمی اب مشینوں کی دنیا میں ہے
جذبۂ دل کی ہر اک نوا گم ہوئی
یہ حِرص و ہوس کے سودائی آدابِ محبت کیا جانیں
یہ عشق کے معنی کیا سمجھیں یہ حُسن کی قیمت کیا جانیں
ہم چُومتے رہتے ہیں ہر دم فطرت کی حسِیں پیشانی کو
آزاد منش ہم اہلِ نظر قانون و شریعت کیا جانیں
ہو خوفِ جہنم جس میں نہاں جنت کی ہوس ہو جس میں عیاں
اللہ کے سادہ دل بندے ہم ایسی عبادت کیا جانیں