سوزِ دل پاسِ وفا دردِ جگر ہے کہ نہیں
جو تھا مسجودِ ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں
فرشںِ گیتی سے سرِ عرش پہنچنے والے
کوچۂ دل سے تِری راہگزر ہے کہ نہیں
گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں
جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
اہلِ دانش میں وہ اندازِ نظر ہے کہ نہیں
جس میں تسکینِ دل و جاں کے بہم ساماں تھے
آج انسان کی وہ شام و سحر ہے کہ نہیں
سیدہ فرحت
No comments:
Post a Comment