Saturday, 4 December 2021

مصلحت گوش رہے عشق سے بیگانہ بنے

 مصلحت گوش رہے عشق سے بیگانہ بنے

نہیں ممکن یہ طریقِ دلِ دیوانہ بنے

ہے یہ بیداد کہ بے چاک گریباں بھی یہاں

ہدفِ سنگِ ملامت سرِ دیوانہ بنے

خامشی پر بھی ہماری یہ قیاس آرائی

بات جو منہ سے نہ نکلے وہی افسانہ بنے

دل کا یہ حوصلہ غم ہے بڑی بات مگر

ہو ستم گر کو ندامت کہیں ایسا نہ بنے

آرزو مند ہی سہی ایک زمانہ اکبر

وہ کسی اور کا کیا ہو گا جو اپنا نہ بنے


اکبر حیدرآبادی

No comments:

Post a Comment