زمیں پر تھا فلک تک آ گیا ہوں
میں اس کے ذہن و دل پر چھا گیا ہوں
بُرا کہہ لو، بھلے اچھا کہو اب
میں جیسا ہوں تمہیں تو بھا گیا ہوں
کہا تھا ناں مجھے مت آزمانا
یہ دیکھو میں پلٹ کر آ گیا ہوں
زمیں پر تھا فلک تک آ گیا ہوں
میں اس کے ذہن و دل پر چھا گیا ہوں
بُرا کہہ لو، بھلے اچھا کہو اب
میں جیسا ہوں تمہیں تو بھا گیا ہوں
کہا تھا ناں مجھے مت آزمانا
یہ دیکھو میں پلٹ کر آ گیا ہوں
تِری پشتو، تِری باتیں، تِرا لہجہ نہیں بُھولا
وہ تیرا مسکرا کر “زہ مڑا” کہنا، نہیں بھولا
بھلے ناراض ہو لیکن کبھی موڑا نہیں خالی
تِری دریا دلی مولا،۔ تِرا منگتا نہیں بھولا
سو میں نے فون رکھنے سے زرا پہلے کہا اس سے
ہمیشہ ساتھ رہنے کا تِرا وعدہ نہیں بھولا
سُن اے لڑکی سہانی مسئلہ ہے
تِری الہڑ جوانی مسئلہ ہے
کسی دن خود بخود ہو جائے گا حل
یہ دنیا ایک فانی مسئلہ ہے
کہیں پر بھی اُگل دیتے ہو کچھ بھی
تمہارا تو زبانی مسئلہ ہے
وجہ یہ بھی بچھڑنے کی بنی تھی
ہماری خاندانی دشمنی تھی
اسے چھوڑا نہیں جاتا ہے باہر
خبر یہ آخری میں نے سنی تھی
اندھیروں میں دِکھاتی تھی وہ رستہ
وہ لڑکی چاندنی تھی، روشنی تھی
میں نے دیکھا ہے کئی لوگوں کو یوں مرتے ہوئے
ہاتھ چُھوٹے اور قدم رُک سے گئے چلتے ہوئے
دِکھ گئی تھی میری آنکھوں میں چُھپی چاہت اُسے
ایک دم سے مسکرائی تھی وہ جب لڑتے ہوئے
اس کو کیا معلوم کیا ہوتی ہے یہ افسُردگی؟
اس نے کب دیکھے ہیں آرے سے شجر کٹتے ہوئے
پری زاد
اے پری زاد لڑکی بتا
چائے کی میز کے سامنے بیٹھ کر
سوچ کی کن حدوں کو پھلانگے چلی جا رہی ہے
تجھے یہ پتہ ہے کہ
چائے تِری تیرے اس سرد برتاؤ کو دیکھ کر ٹھنڈی ہونے لگی ہے
مرد کے دکھ
تم کہتی ہو
تم مرد بہت طاقتور ہو
شاید تم سچ کہتی ہو
مرد بہت طاقتور ہیں
لیکن ہم بھی روتے ہیں
تم کیا جانو ہم روتے ہیں
قیدی
میں سوچتا ہوں
کہ میرے زنداں کے باقی قیدی کہاں گئے ہیں؟
کہاں گئے ہیں خبر نہیں ہے
مگر میں اب تک غلام ہوں
اور کسی مسیحا کی آس میں ہوں
پورا خواب
موت کا وقت ہے
حشر ہے
کیا کہا؟
ہاؤ ہُو
کچھ سنا؟
پہلے تو مسکرا کے کہا، اور عشق کر
پھر آنکھ کو لڑا کے کہا، اور عشق کر
میں ہٹ گیا تھا چُوم کر اُس نازنین کو
اُس نے دِیا بجھا کے کہا، اور عشق کر
پہلے مجھے ندی کے کنارے پہ لے گیا
اور پھر مجھے بہا کے کہا، اور عشق کر