Showing posts with label حمزہ سواتی. Show all posts
Showing posts with label حمزہ سواتی. Show all posts

Monday, 23 October 2023

زمیں پر تھا فلک تک آ گیا ہوں

 زمیں پر تھا فلک تک آ گیا ہوں

میں اس کے ذہن و دل پر چھا گیا ہوں

بُرا کہہ لو، بھلے اچھا کہو اب

میں جیسا ہوں تمہیں تو بھا گیا ہوں

کہا تھا ناں مجھے مت آزمانا

یہ دیکھو میں پلٹ کر آ گیا ہوں

Monday, 10 January 2022

تری پشتو تری باتیں ترا لہجہ نہیں بھولا

 تِری پشتو، تِری باتیں، تِرا لہجہ نہیں بُھولا

وہ تیرا مسکرا کر “زہ مڑا” کہنا، نہیں بھولا

بھلے ناراض ہو لیکن کبھی موڑا نہیں خالی

تِری دریا دلی مولا،۔ تِرا منگتا نہیں بھولا

سو میں نے فون رکھنے سے زرا پہلے کہا اس سے

ہمیشہ ساتھ رہنے کا تِرا وعدہ نہیں بھولا

Saturday, 8 January 2022

سن اے لڑکی سہانی مسئلہ ہے

 سُن اے لڑکی سہانی مسئلہ ہے

تِری الہڑ جوانی مسئلہ ہے

کسی دن خود بخود ہو جائے گا حل

یہ دنیا ایک فانی مسئلہ ہے

کہیں پر بھی اُگل دیتے ہو کچھ بھی

تمہارا تو زبانی مسئلہ ہے

Monday, 20 September 2021

وجہ یہ بھی بچھڑنے کی بنی تھی

 وجہ یہ بھی بچھڑنے کی بنی تھی

ہماری خاندانی دشمنی تھی

اسے چھوڑا نہیں جاتا ہے باہر

خبر یہ آخری میں نے سنی تھی

اندھیروں میں دِکھاتی تھی وہ رستہ

وہ لڑکی چاندنی تھی، روشنی تھی

Monday, 19 July 2021

میں نے دیکھا ہے کئی لوگوں کو یوں مرتے ہوئے

 میں نے دیکھا ہے کئی لوگوں کو یوں مرتے ہوئے

ہاتھ چُھوٹے اور قدم رُک سے گئے چلتے ہوئے

دِکھ گئی تھی میری آنکھوں میں چُھپی چاہت اُسے

ایک دم سے مسکرائی تھی وہ جب لڑتے ہوئے

اس کو کیا معلوم کیا ہوتی ہے یہ افسُردگی؟

اس نے کب دیکھے ہیں آرے سے شجر کٹتے ہوئے

Tuesday, 6 July 2021

اے پری زاد لڑکی بتا تجھے یہ پتہ ہے

 پری زاد


اے پری زاد لڑکی بتا

چائے کی میز کے سامنے بیٹھ کر

سوچ کی کن حدوں کو پھلانگے چلی جا رہی ہے

تجھے یہ پتہ ہے کہ

چائے تِری تیرے اس سرد برتاؤ کو دیکھ کر ٹھنڈی ہونے لگی ہے

Friday, 2 July 2021

مرد کے دکھ تم کہتی ہو تم مرد بہت طاقتور ہو

 مرد کے دکھ


تم کہتی ہو

تم مرد بہت طاقتور ہو

شاید تم سچ کہتی ہو

مرد بہت طاقتور ہیں

لیکن ہم بھی روتے ہیں

تم کیا جانو ہم روتے ہیں

Thursday, 1 July 2021

میں سوچتا ہوں کہ میرے زنداں کے باقی قیدی

 قیدی


میں سوچتا ہوں

کہ میرے زنداں کے باقی قیدی کہاں گئے ہیں؟

کہاں گئے ہیں خبر نہیں ہے

مگر میں اب تک غلام ہوں

اور کسی مسیحا کی آس میں ہوں

شکر ہے خواب تھا موت کا وقت ہے حشر ہے

 پورا خواب


موت کا وقت ہے

حشر ہے

کیا کہا؟

ہاؤ ہُو

کچھ سنا؟

Wednesday, 30 June 2021

پہلے تو مسکرا کے کہا اور عشق کر

 پہلے تو مسکرا کے کہا، اور عشق کر

پھر آنکھ کو لڑا کے کہا، اور عشق کر

میں ہٹ گیا تھا چُوم کر اُس نازنین کو

اُس نے دِیا بجھا کے کہا، اور عشق کر

پہلے مجھے ندی کے کنارے پہ لے گیا

اور پھر مجھے بہا کے کہا، اور عشق کر