Thursday, 15 October 2026

عصمت کے بازار کو چھو کے آتا ہوں

 عصمت کے بازار کو چھُو کے آتا ہوں

ڈر ڈر کے دِلدار کو چھو کے آتا ہوں

کارِ محبت، مکر و فریب سے نالاں ہے

میں تو سچّے پیار کو چھو کے آتا ہوں

پھولوں کی کوئی قید نہیں ہے باغوں میں

دِیوانہ ہوں، خار کو چھو کے آتا ہوں

ترکِ محبت پر ہم دونوں راضی تھے

میں اب اُس اقرار کو چھو کے آتا ہوں

جب بھی وسائل کم پڑ جائیں محبت میں

مُفلس ہوں، سرکارؐ کو چھو کے آتا ہوں

یادوں کی تلخی جب بڑھنے لگتی ہے

میں اس کی دِیوار کو چھو کے آتا ہوں

اپنے خواب کو رکھ کر وقت کے زِینے پر

میں اُڑ کر سنسار کو چھو کے آتا ہوں

جس کے دل پر لہُو کی مُہریں نصب ہوئیں

میں اس کے دستار کو چھو کے آتا ہوں

جاؤ! ہمارے ہاتھ پہ بیعت مت کرنا

ساقی ہوں، میخوار کو چھو کے آتا ہوں

دُوہری اذیّت ہے وابستہ مجھ سے شجاع

اُجڑے ہوئے گُلزار کو چھو کے آتا ہوں


کاشف شجاع

No comments:

Post a Comment