عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میدانِ کربلا
جب کربلا میں داخلۂ شاہ دیں ہوا
دشت بلا نمونۂ خلد بریں ہوا
سر جُھک گیا فلک کا یہ اوج زمیں ہوا
خُورشید محو حُسنِ حسینِؑ حسیں ہوا
پایا فروغ نیر دیں کے ظہور سے
جنگل کو چاند لگ گئے زہراؑ کے نور سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میدانِ کربلا
جب کربلا میں داخلۂ شاہ دیں ہوا
دشت بلا نمونۂ خلد بریں ہوا
سر جُھک گیا فلک کا یہ اوج زمیں ہوا
خُورشید محو حُسنِ حسینِؑ حسیں ہوا
پایا فروغ نیر دیں کے ظہور سے
جنگل کو چاند لگ گئے زہراؑ کے نور سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بولا یہ ہاتھ جوڑ کے دستِ خدا کا لالؑ
حضرتؐ کو برقرار رکھے رب ذوالجلال
پوشاک یہ پہن کے تو ہم خوش ہوئے کمال
ناقہ نہیں کہ جس پہ چڑھیں اب ہے یہ ملال
عزت میں ہیں بزرگ، شرف میں زیادہ ہیں
لڑکے تو سب سوار ہیں، اور ہم پیادہ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آئی مہِ صیام کی انیسویں جو شب
کلثومؑ سے طعام علیؑ نے کیا طلب
وہ لائیں نانِ جو، نمک و شیر اور رُطَب
بیٹی سے تب علیؑ نے کہا از رہِ غضب
کیا چاہتی ہو تم کہ علیؑ پر عتاب ہو
محشر میں میرے واسطے طولِ حساب ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
آ کے جو بزمِ عزا میں رو گئے
مجرئی! وہ فردِ عصیاں دھو گئے
یاد آیا دامنِ مادر کا چین
پاؤں پھیلا کر لحد میں سو گئے
اشک کیا نکلیں کڑے احوال پر
سنتے سنتے قلب پتھر ہو گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دنیا میں آج حشر کا دن آشکار ہے
سبطِ نبیؐ کے سینے پہ قاتل سوار ہے
چلّا رہی ہے خیمے سے زینبؑ اتر لعیں
بھائی کا میرے زخموں سے سینہ فگار ہے
کہتے تھے شاہؑ شمر سے مجھ کو نہ ذبح کر
دنیائے چند روزہ کا کیا اعتبار ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سُنبلِ تر ہے پریشاں زُلفِ اکبرؑ دیکھ کر
کٹ گیا ہے ماہِ تاباں رُوئے انور دیکھ کر
آب ہو جائے گا حُسنِ رُوئے اکبرؑ دیکھ کر
سامنے آئینہ لانا، اے سکندر دیکھ کر
جب چلی اعداء پہ تیغِ شہؑ، پکارے جبرئیلؑ
یا حسینؑ ابنِ علیؑ! خادم کے شہپر دیکھ کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
نہ منصب سے غرض، نہ خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں
جو رکھتے ہیں تو عشقِ روضۂ شبیرؑ رکھتے ہیں
خیالِ زلف و روئے حضرتِ شبیرؑ رکھتے ہیں
ہم اپنی چشم میں دن رات کی تصویر رکھتے ہیں
شبِ ہفتم سے ہے غیظ و غضب عباسِؑ غازی کو
نہ کاندھے سے سپر، نہ ہاتھ سے شمشیر رکھتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے پسر کا داغ
دل کو فگار کرتا ہے، لختِ جگر کا داغ
آنکھوں کا نُور کھوتا ہے، نُورِ نظر کا داغ
مرنا جوان بیٹے کا ہے، عمر بھر کا داغ
یہ حال ابنِ فاطمہؑ کے دل سے پوچھیے
زخمِ جگر کے درد کو، گھائل سے پوچھیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ہم صورتِ محبوبِؐ خدا تھے علی اکبرؑ
شوکت میں شہِ عقدہ کشا تھے علی اکبرؑ
شپیرؑ کی پیری کے عصا تھے علی اکبرؑ
اور بانو کی آنکھوں کی ضیا تھے علی اکبرؑ
جلوہ رخِ پُر نُور پہ تھا نُورِ نبیﷺ کا
روشن تھا گھر اس ماہ سے زہراؑ و علیؑ کا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
ناگاہ آ کے بالی سکینہؑ نے یہ کہا
کیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مِرے چچا
عہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا
لوگو! مجھے بلائیں تو لینے دو اک ذرا
شوکت خدا بڑھائے میرے عمّو جان کی
میں بھی تو دیکھوں شان، علیؑ کے نشان کی
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
صبح عاشور کا منظر
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو
اٹھو فریضۂ سحری کو ادا کرو