Showing posts with label میر انیس. Show all posts
Showing posts with label میر انیس. Show all posts

Saturday, 13 July 2024

جب کربلا میں داخلہ شاہ دیں ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

میدانِ کربلا


جب کربلا میں داخلۂ شاہ دیں ہوا 

دشت بلا نمونۂ خلد بریں ہوا

سر جُھک گیا فلک کا یہ اوج زمیں ہوا

خُورشید محو حُسنِ حسینِؑ حسیں ہوا 

پایا فروغ نیر دیں کے ظہور سے 

جنگل کو چاند لگ گئے زہراؑ کے نور سے 

Friday, 12 July 2024

پائے حسین عرش کا سرتاج ہو گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بولا یہ ہاتھ جوڑ کے دستِ خدا کا لالؑ

حضرتؐ کو برقرار رکھے رب ذوالجلال

پوشاک یہ پہن کے تو ہم خوش ہوئے کمال

ناقہ نہیں کہ جس پہ چڑھیں اب ہے یہ ملال

عزت میں ہیں بزرگ، شرف میں زیادہ ہیں

لڑکے تو سب سوار ہیں، اور ہم پیادہ ہیں

Tuesday, 2 July 2024

آئی مہ صیام کی انیسویں جو شب

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 آئی مہِ صیام کی انیسویں جو شب

کلثومؑ سے طعام علیؑ نے کیا طلب

وہ لائیں نانِ جو، نمک و شیر اور رُطَب

بیٹی سے تب علیؑ نے کہا از رہِ غضب

کیا چاہتی ہو تم کہ علیؑ پر عتاب ہو

محشر میں میرے واسطے طولِ حساب ہو

Saturday, 29 July 2023

آ کے جو بزم عزا میں رو گئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


آ کے جو بزمِ عزا میں رو گئے​

مجرئی! وہ فردِ عصیاں دھو گئے​

یاد آیا دامنِ مادر کا چین

پاؤں پھیلا کر لحد میں سو گئے​

اشک کیا نکلیں کڑے احوال پر​

سنتے سنتے قلب پتھر ہو گئے

Wednesday, 26 July 2023

دنیا میں آج حشر کا دن آشکار ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


دنیا میں آج حشر کا دن آشکار ہے​

سبطِ نبیؐ کے سینے پہ قاتل سوار ہے​

چلّا رہی ہے خیمے سے زینبؑ اتر لعیں​

بھائی کا میرے زخموں سے سینہ فگار ہے​

کہتے تھے شاہؑ شمر سے مجھ کو نہ ذبح کر​

دنیائے چند روزہ کا کیا اعتبار ہے

Tuesday, 25 July 2023

سنبل تر ہے پریشاں زلف اکبر دیکھ کر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سُنبلِ تر ہے پریشاں زُلفِ اکبرؑ دیکھ کر​

کٹ گیا ہے ماہِ تاباں رُوئے انور دیکھ کر​

آب ہو جائے گا حُسنِ رُوئے اکبرؑ دیکھ کر​

سامنے آئینہ لانا، اے سکندر دیکھ کر​

جب چلی اعداء پہ تیغِ شہؑ، پکارے جبرئیلؑ​

یا حسینؑ ابنِ علیؑ! خادم کے شہپر دیکھ کر

نہ منصب سے غرض نہ خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


نہ منصب سے غرض، نہ خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں​

جو رکھتے ہیں تو عشقِ روضۂ شبیرؑ رکھتے ہیں​

خیالِ زلف و روئے حضرتِ شبیرؑ رکھتے ہیں​

ہم اپنی چشم میں دن رات کی تصویر رکھتے ہیں​

شبِ ہفتم سے ہے غیظ و غضب عباسِؑ غازی کو​

نہ کاندھے سے سپر، نہ ہاتھ سے شمشیر رکھتے ہیں

Monday, 24 July 2023

دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے پسر کا داغ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے پسر کا داغ​

دل کو فگار کرتا ہے، لختِ جگر کا داغ​

آنکھوں کا نُور کھوتا ہے، نُورِ نظر کا داغ​

مرنا جوان بیٹے کا ہے، عمر بھر کا داغ​

یہ حال ابنِ فاطمہؑ کے دل سے پوچھیے​

زخمِ جگر کے درد کو، گھائل سے پوچھیے

Sunday, 23 July 2023

ہم صورت محبوبِ خدا تھے علی اکبر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


ہم صورتِ محبوبِؐ خدا تھے علی اکبرؑ ​

شوکت میں شہِ عقدہ کشا تھے علی اکبر​ؑ

شپیرؑ کی پیری کے عصا تھے علی اکبر​ؑ

اور بانو کی آنکھوں کی ضیا تھے علی اکبر​ؑ

جلوہ رخِ پُر نُور پہ تھا نُورِ نبیﷺ کا​

روشن تھا گھر اس ماہ سے زہراؑ و علیؑ کا

Thursday, 19 August 2021

میں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 ناگاہ آ کے بالی سکینہؑ نے یہ کہا

کیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مِرے چچا

عہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا

لوگو! مجھے بلائیں تو لینے دو اک ذرا

شوکت خدا بڑھائے میرے عمّو جان کی

میں بھی تو دیکھوں شان، علیؑ کے نشان کی

صبح عاشور کا منظر یاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

 صبح عاشور کا منظر


جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے

دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے

مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے

آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو

اٹھو فریضۂ سحری کو ادا کرو

Monday, 23 October 2017

نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں

نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں 
وہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیں
کبھی برا نہیں جانا کسی کو اپنے سوا 
ہر ایک ذرے کو ہم آفتاب سمجھے ہیں
عجب نہیں ہے جو شیشوں میں بھر کے لے جائیں 
ان آنسوؤں کو فرشتے گلاب سمجھے ہیں

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لئے

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے 
شمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیے 
زندگی میں تو نہ اک دم خوش کیا ہنس بول کر 
آج کیوں روتے ہیں میرے آشنا میرے لیے 
کنجِ عزلت میں مثال آسیا ہوں گوشہ گیر 
رزق پہنچاتا ہے گھر بیٹھے خدا میرے لیے 

مرا راز دل آشکارا نہیں

مِرا رازِ دل آشکارا نہیں 
وہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیں 
وہ گل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگ 
وہ بو ہوں کہ جو آشکارا نہیں 
وہ پانی ہوں شیریں نہیں جس میں شور 
وہ آتش ہوں جس میں شرارا نہیں 

Tuesday, 6 December 2016

واللہ عجب شان شہنشاہ رسل ہے

بیانِ شانِ ولادت شہِ لولاکﷺ

واللہ عجب شانِ شہنشاہِ رُسل ہے
اس گلشنِ ایجاد کا پہلا وہی گُل ہے
اس شاہ کے اوصاف کا کونین میں غُل ہے
سب جزو کُل اجزاء ہیں، اُسی کا وہی کُل ہے
ہر چند کہ ہے وہ خلفِ آدمؑ و حوّا
بر حق نے کیا ہے شرفِ آدمؑ و حوّا

حضور کی زندگی کے آخری ایام کا بیان

حضورﷺ کی زندگی کے آخری ایام کا بیان

جس وقت ہوا کفر و ضلالت سے جہاں پاک
اور دور ہوا گلشنِ دِیں سے خس و خاشاک
رونے کی ہے جا ہوتا ہے سینے میں جگر چاک
بیمار ہوئے مدینے میں سیدِ لولاکﷺ 
اک بار خزاں آ گئی ہستی کے چمن میں
طاقت نہ رہی اٹھنے بیٹھنے کی بدن میں

میر انیس

وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے

وجد ہو بلبلِ تصویر کو جس کی بُو سے
اس سے گلرنگ کا دعویٰ کرے پھر کس رو سے
کس سے اے شوخ ہوئی رات کو ہاتھا پائی
نورِ تن آج جو ڈھلکا ہے تیرے بازو سے
کل تو آغوش میں شوخی نے ٹھہرنے نہ دیا
آج کی شب تو نکل جاؤ مِرے قابو سے

جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا 
امت نے مجھ کو لوٹ لیا واہ محمدا
اس روز کون حقِ رفاقت کرے ادا 
ہے ہے وہ زخم اور دو عالم کا مقتدا
انیس سو ہیں زخم تنِ چاک چاک پر 
زینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر

Friday, 1 July 2016

اشارے کیا نگہ ناز دلربا کے چلے

اشارے کیا نگہِ نازِ دل ربا کے چلے
جب انکے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے
پکار کہتی تھی حسرت سے لاش عاشق کی
صنم کہاں ہمیں تم خاک میں ملا کے چلے
کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی
چلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے

شہید عشق ہوئے قیس نامور كی طرح

شہیدِ عشق ہوئے قیس نامور كی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نے كئے ہنر كی طرح
كچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر كی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دو پہر كی طرح
تجھ ہی كو دیكھوں گا جب تک ہیں برقرار آنكھیں
میری نظر نہ پھرے گی تیری نظر كی طرح